رسائی کے لنکس

logo-print

جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں کی گرفتاری شروع


فائل فوٹو

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جانب سے اسلام آباد مارچ کی محرک جماعت جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی- ف) کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے خلاف 27 اکتوبر کو دار الحکومت اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہوا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ حکومت ناکام ہو چکی ہے لہٰذا وزیر اعظم عمران خان کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔

پیر کو اسلام آباد کی پولیس نے جے یو آئی (ف) کے دو کارکنوں مولانا شفیق الرحمٰن اور مولانا محمد ارشاد کو گرفتار کرکے ان پر انتظامیہ کی رٹ چیلنج کرنے کا مقدمہ درج کیا ہے۔

پولیس کے مطابق مولانا شفیق الرحمٰن اور مولانا محمد ارشاد آزادی مارچ اور دھرنے کے سلسلے میں بینرز لگا رہے تھے اور عوام کو احتجاج میں شرکت کے لیے اکسا رہے تھے۔

ولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کے خلاف 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہوا ہے۔ (فائل فوٹو)
ولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کے خلاف 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہوا ہے۔ (فائل فوٹو)

خیال رہے کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت وفاقی دارالحکومت میں کسی بھی قسم کے سیاسی اجتماع، وال چاکنگ، بینرز آویزاں کرنے اور پمفلٹ تقسیم کرنے پر پابندی عائد ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جے یو آئی (ف) کے گرفتار کارکنوں نے انتظامیہ کی رٹ کو چیلنج کیا تھا جس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جب کہ فرار ہونے والے ان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

پاکستان کے وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے چند روز قبل واضح کیا تھا کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ لہٰذا کسی کو بھی یہاں جمع ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

'حکومت سیاسی آزادی پر قدغن لگا رہی ہے'

کارکنوں کی گرفتاری پر مؤقف دیتے ہوئے جے یو آئی کے رہنما سینیٹر حمداللہ نے کہا ہے کہ حکومت سیاسی آزادیوں پر قدغنیں لگا رہی ہے۔ کارکنوں کی گرفتاری کے اقدامات ثابت کرتے ہیں کہ حکومت آزادی مارچ سے خوف زدہ ہے لیکن حکومتی حربے کارکنوں کو مزید تقویت دیں گے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر قیادت کو بھی گرفتار کر لیا جاتا ہے تب بھی کارکن ہر صورت 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچیں گے۔

سینیٹر حمداللہ نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور رہنماؤں کی گرفتاری کی صورت میں کارکنوں میں اشتعال پیدا ہوگا جس کے نتیجے میں تصادم بھی ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہوگی کیوں کہ اس کا رویہ اشتعال کی طرف لے جا رہا ہے۔

مارچ کے لیے کسی بھی قسم کے تعاون پر پابندی

واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے اسلام آباد کے مقامی تاجروں کو بھی خبردار کیا گیا تھا کہ وہ آزادی مارچ کے منتظمین یا شرکا کے ساتھ کسی قسم کا کاروباری لین دین نہ کریں۔

پولیس کے اسٹیشن ہاؤس افسران (ایس ایچ اوز) کی جانب سے اپنی حدود میں موجود تاجروں کو تحریری تنبیہ کی گئی تھی کہ دھرنے کے شرکأ کو کسی قسم کی معاونت یا سامان فراہم نہ کریں۔ بصورتِ دیگر انہیں بھی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

حزبِ اختلاف میں شامل تمام بڑی جماعتیں اس آزادی مارچ کی حمایت کر چکی ہیں۔ (فائل فوٹو)
حزبِ اختلاف میں شامل تمام بڑی جماعتیں اس آزادی مارچ کی حمایت کر چکی ہیں۔ (فائل فوٹو)

اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی - ف) کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کو کالعدم قرار دینے کے حوالے سے ایک سمری بھی وزارت قانون اور الیکشن کمیشن کو ارسال کی ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ حزبِ اختلاف میں شامل تمام بڑی جماعتیں اس آزادی مارچ کی حمایت کر چکی ہیں تاہم بعض جماعتیں دھرنا دینے کے حوالے سے اختلاف رکھتی ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق 31 اکتوبر کو اسلام آباد کے ڈی چوک پر ایک بڑے اجتماع کے لیے چاروں صوبوں سے کارکن اکٹھے ہوں گے لیکن اس کے بعد دھرنا ہوگا یا نہیں؟ اس حوالے سے کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔

البتہ مولانا فضل الرحمٰن کے بیانات سے یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ وہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں طویل قیام کا ارادہ رکھتے ہیں۔

'اسلام آباد کی طرف مارچ نہیں کرنے دیا جائے گا'

دوسری جانب ماضی میں 126 دن تک ڈی چوک پر دھرنا دینے والی حکومتی جماعت تحریک انصاف کے مختلف رہنما 'آزادی مارچ' روکنے کے بیانات دے رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلی محمود خان بھی ایک جلسے سے خطاب میں اعلان کر چکے ہیں کہ آزادی مارچ کے شرکاء کو اسلام آباد کی طرف مارچ نہیں کرنے دیا جائے گا۔

وفاقی حکومت نے جے یو آئی- ف کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کو کالعدم قرار دینے کے لیے سمری بھی وزارت قانون اور الیکشن کمیشن کو ارسال کر دی ہے۔ (فائل فوٹو)
وفاقی حکومت نے جے یو آئی- ف کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کو کالعدم قرار دینے کے لیے سمری بھی وزارت قانون اور الیکشن کمیشن کو ارسال کر دی ہے۔ (فائل فوٹو)

جہاں ایک طرف حکومتی رہنماؤں کی جانب سے آزادی مارچ روکنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں وہیں دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے حکومت نے وزیر دفاع پرویز خٹک کی قیادت میں سینیئر ارکان پر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔

اس حکومتی کمیٹی نے گزشتہ روز جے یو آئی ف کی قیادت سے ملاقات کرنا تھی لیکن دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تحفظات کے اظہار کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے پارٹی رہنماؤں کو اس ملاقات سے روک دیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات کا فیصلہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کرے گی۔

'مولانا فضل الرحمٰن گرفتار ہو کر ہیرو بننا چاہتے ہیں'

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سینیٹ میں قائدِ ایوان سینیٹر شبلی فراز کہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں اور اسی بنا پر حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ ان کی ملاقات منسوخ ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن گرفتار ہو کر ہیرو بننا چاہتے ہیں لیکن حکومت ان کو گرفتار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

یاد رہے کہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے رواں ماہ 27 اکتوبر کو کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے آزادی مارچ اور 31 اکتوبر کو وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں داخلے کا اعلان کیا ہوا ہے جہاں وہ ممکنہ دھرنا دینے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG