رسائی کے لنکس

logo-print

شہریت کا نیا قانون نریندر مودی کے لیے بڑا چیلنج


بھارت میں نئے شہریت کے قانون کے خلاف احمدآباد میں ہونے والا احتجاجی مظاہرہ

بھارت میں شہریت کے اس متنازعہ قانون کے خلاف مظاہرے جاری ہیں جس کی رو سے مذہب کو شہریت کیلئے بنیادی حیثیت سے متعارف کرایا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت، بھارت کے تین ہمسایہ ممالک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں غیر مسلم اقلیتی افراد کو بھارتی شہریت دینے کا عمل تیز کیا جائے گا۔

ملک بھر میں جاری ان مظاہروں میں طلبا پیش پیش ہیں۔ جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے سکالر راہول کپور کہتے ہیں کہ پناہ گزینوں سے متعلق بھارتی پالیسی مذہبی بنیادوں پر استوار نہیں ہو سکتی، کیونکہ بھارتی آئین اس کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔

دہلی یونیورسٹی کے طالب علم گیت بنڈرا کہتے ہیں کہ یہ قانون ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دیوار کھڑی کرنے کا ایجنڈا ہے اور بنیادی طور پر یہ اقدام ملک کو درپیش اصل معاشی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کہتے ہیں کہ یہ نیا قانون انسانی ہمدردی کے حوالے سے ایک اقدام ہے، جس کا مقصد ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جن کیلئے بھارت آنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

تاہم، ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون میں میانمار میں ظلم و ستم کا شکار ہونے والی مسلمان روہنگیا آبادی کو کیوں شامل نہیں کیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق 40,000 کے لگ بھگ روہنگیا پناہ گزیں بھارت میں موجود ہیں۔ سینٹر فار ایکوئٹی سٹڈیز کے ڈائریکٹر ہرش منڈیر کا کہنا ہے کہ یہ قانون مذہبی بنیادوں پر شہریت کیلئے درجات کا تعین کرتا ہے، جس میں شہریت دینے کیلئے مسلمانوں کو ایک طرف کر دیا گیا ہے اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کو دوسری جانب۔ یہ انتہائی خطرناک تصور ہے۔

وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمان کو بتایا ہے کہ بھارت کے کسی بھی مسلمان شہری کیلئے شہریت کھو دینے کا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔ تاہم، بھارت کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت، یعنی مسلمانوں میں اس بارے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ انہوں نے غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کی خاطر ملک بھر میں شہریت کی شناخت کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام شمال مشرقی ریاست آسام میں شروع کر دیا گیا ہے، جہاں 20 لاکھ افراد کو بے وطن ہو جانے کا خطرہ درپیش ہے۔

اس منصوبے کے تحت صرف مسلمانوں کو شہریت کھو دینے کا خطرہ ہے جبکہ ہندوؤں سمیت دیگر افراد کو نئے قانون کے تحت تحفظ دیا گیا ہے۔ سینٹر فار پالیسی ریسرچ کے نیلنجن سرکار کا کہنا ہے کہ یہ بھارت کے سیکولر تشخص کی نفی کرتا ہے، لیکن یہ کسی اور طریقے سے اسے دوبارہ تحفظ نہیں دیتا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بڑی حد تک ایک تباہ کن قوانین کا مجموعہ ہے اور تعمیری ہرگز نہیں ہے۔

اس قانون کو ختم کرنے کے مطالبات کے تناظر میں وزیر اعظم مودی کیلئے اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہوگا کہ اس سے ملک میں ان کی مقبولیت ختم نہ ہو جائے یا دنیا بھر میں بھارت کی ساکھ متاثر نہ ہو۔ نیلنجن سرکار کہتے ہیں کہ آپ میرے خیال میں ایک انتہائی سنجیدہ نوعیت کے سماجی مظاہروں کی شروعات دیکھ رہے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس حکومت کو ایک ہندو قوم پرست اور مسلم مخالف حکومت کے طور پر دیکھا جائے گا۔

نیلنجن سرکار سوال کرتے ہیں آیا اس سے بھارت کی داخلی سیاست میں مختصر مدت کے دوران کوئی تبدیلی واقع ہو سکتی ہے؟ شاید نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت جیسے ترقی پزیر ملک کیلئے بین الاقوامی تائید اس کے وسیع تر مقاصد کیلئے انتہائی ضروری ہے۔

اس نئے قانون کو قانونی طور پر چیلنج کرنے کے اقدامات شروع ہو چکے ہیں۔ تاہم، سب سے بڑا چیلنج ملک بھر میں اس قانون کے خلاف ابھرنے والے غم و غصے پر قابو پانا ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG