رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کا متنازع شہریت بل: کیا جاننا ضروری ہے؟


مغربی بنگال کی وزیر اعلٰی ممتا بنر جی احتجاجی ریلی کی قیادت کر رہی ہیں۔

بھارت کی پارلیمان کی منظوری کے بعد بھارت کے صدر نے شہریت ترمیمی بل پر دستخط کر دیے ہیں۔ جس کے بعد یہ بل نافذ العمل ہو گیا ہے۔ ترمیم کے بعد بھارتی شہریت حاصل کرنے کے قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے۔پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں عدم تحفظ کا شکار غیر مسلم اقلیتی افراد کو بھی اس بل کی منظوری کے بعد بھارت کی شہریت دی جا سکے گی۔

متنازع بل کی منظوری کے بعد بھارت میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ خاص طور پر شمالی مشرقی بھارت کی ریاست آسام میں پرتشدد مظاہروں کے باعث ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ یہ مظاہرے اب دارالحکومت نئی دہلی، کولکتہ، ممبئی اور حیدر آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں تک پھیل چکے ہیں۔

متنازع شہریت بل پر انسانی حقوق کی تنظیموں، پاکستان اور امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

شہریت ترمیمی بل ہے کیا؟

بھارت کے وزیرِ داخلہ امت شاہ نے 9 دسمبر کو بھارت کی پارلیمان کے ایوانِ زیریں لوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل پیش کیا۔ جسے اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔

بل کے ذریعے بھارت میں رائج 1955 کے شہریت قانون میں ترمیم کی گئی ہے۔ جس کا مقصد پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے مبینہ طور پر مذہب کی بنیاد پر ستائے جانے کے بعد بھارت آنے والے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی برادری کے افراد کو شہریت دینا ہے۔

جو لوگ 31 دسمبر 2014 یا اس سے قبل ان ملکوں سے بھارت آئے ہیں ان کو بھی بھارت کی شہریت دی جائے گی۔ بل میں مسلمانوں کو شامل نہ کرنے پر حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ نے ایوان میں یہ بل پیش کرتے ہوئے اس میں ترمیم کو بھارتی آئین کے مطابق اور معقول درجہ بندی کہا تھا۔ وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ بھارت کے آئین کا آرٹیکل 11 شہریت دینے کے معاملے سے متعلق ہے۔ جس میں وفاقی حکومت کا یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ معقول درجہ بندی کرتے ہوئے غیر ملکیوں کو شہریت دینے کے قانون میں ترمیم کر سکتی ہے۔

البتہ ناقدین کہتے ہیں کہ حکمراں جماعت کے نزدیک معقول درجہ بندی کا پیمانہ بھارت کے آئین کے آرٹیکل 14 اور 15 سے متصادم ہے۔ ان کے نزدیک بھارت کا آئین سیکولرازم اور مساوات پر زور دیتا ہے لیکن موجودہ حکومت اسے نظرانداز کر رہی ہے۔

بھارت کے آئین کا آرٹیکل 14 اور 15 کیا کہتا ہے؟

بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 کے مطابق ریاست ہر شخص سے برابری کی بنیاد پر سلوک کرے گی۔ اس آرٹیکل میں بھارت کے شہری کے بجائے بھارت میں موجود ہر شخص کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 15 میں کہا گیا ہے کہ ریاست مذہب، رنگ، نسل، ذات، جنس کی بنیاد پر کسی بھی شہری کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں برتے گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق آرٹیکل 15 میں لفظ 'شہری' استعمال کیا گیا ہے۔ یوں شہریت ترمیمی بل براہ راست آئین کی نفی نہیں کرتا البتہ آرٹیکل 15 میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے۔

بھارتی شہریت حاصل کرنے کا مروجہ طریقہ کار

بھارتی شہریت سے متعلق 1955 کے ایکٹ کے تحت کوئی بھی شخص جو بھارت میں پیدا ہو یا 1950 سے لے کر 10 دسمبر 1992 تک بھارت سے باہر پیدا ہونے والا شخص جس کے والد اس کی پیدائش کے وقت بھارتی شہری ہوں، وہ بھارتی شہریت کا حق دار ہے۔

اس کے علاوہ بھارت میں 12 سال سے قانونی طور پر مقیم غیر ملکی افراد بھی بھارتی شہریت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ کوئی بھی فرد جس کی کسی بھارتی شہری سے شادی کو سات سال کا عرصہ گزر چکا ہو وہ بھی بھارت کی شہریت حاصل کر سکتا ہے۔

بھارتی حکومت کا یہ کہنا ہے کہ ان شرائط پر پورا اترنے والے مسلمان اس طریقۂ کار کے تحت بھارتی شہریت کی درخواست دے سکتے ہیں۔

غیرقانونی تارکین وطن سے متعلق قوانین کیا تھے؟

بھارت میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد یا ایسے افراد جو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے بھارت میں داخل ہوئے ہوں یا جن کے ویزا کی میعاد ختم ہو چکی ہو، انہیں یا تو ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے یا ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاتی ہے۔

البتہ 2015 میں بھارتی حکومت نے 31 دسمبر 2014 یا اس سے پہلے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے مبینہ طور پر مذہب کی بنیاد پر ستائے جانے کی بنیاد پر ہجرت کرکے بھارت آنے والے افراد کو ڈی پورٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان میں ہندو، سکھ، عیسائی برادری، جین، بودھ اور پارسی تارکین شامل تھے۔

شہریت بل میں ترمیم کے بعد اب مذکورہ مذہب کے ماننے والے ان تین ممالک کے تارکینِ وطن کو بھارت کی شہریت دی جائے گی جس کا اطلاق بھارت میں ان کے داخلے کے دن سے ہو گا۔

بل کے خلاف مظاہروں کی نوعیت مختلف ہے

شہریت ترمیمی بل کی منظوری کے خلاف بھارت میں دو طرح کے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اپوزیش جماعتیں بشمول انڈین نیشنل کانگریس اور مسلمان تنظیمیں اس بنیاد پر احتجاج کر رہی ہیں کہ یہ بل بھارت کی اساس سیکولر ازم کی روح کے برخلاف اور مذہب کے نام پر بھارت کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔ یہ مظاہرے دارالحکومت نئی دہلی کے علاوہ بھارت کے طول و عرض میں ہو رہے ہیں۔

دوسری نوعیت کا احتجاج خاص طور پر آسام اور تریپورہ کی شمال مشرقی ریاستوں میں دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ توجہ طلب بات یہ ہے کہ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں، آسام اور تریپورہ میں ہونے والا احتجاج اس بات پر نہیں ہے کہ ترمیمی بل میں مسلمانوں کو کیوں علیحدہ رکھا گیا ہے۔ بلکہ یہ اس بات پر ہے کہ اس میں ہندوؤں کو کیوں شامل کیا گیا ہے۔ ان ریاستوں میں احتجاج کرنے والے غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کو ریاست سے نکالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔

بھارت کی ریاستوں آسام، تریپورہ، مغربی بنگال، میگھالیا اور میزو رام کی سرحدیں بنگلہ دیش سے ملتی ہیں۔ ان پانچ میں سے تین ریاستوں یعنی میگھالیا، میزو رام اور تریپورہ پر یہ ترمیمی بل لاگو ہی نہیں ہوتا۔

متنازع ترمیمی بل کے خلاف آسام اور تریپورہ کے کچھ حصوں میں پر تشدد احتجاج ہوا ہے۔ 1971 میں لڑی جانے والی بنگلہ دیش کی جنگِ آزادی کے بعد بنگلہ دیشی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد آسام اور تریپورہ میں آباد ہوئی تھی۔ رواں سال نیشنل رجسٹریشن آف سٹیزن (این آر سی) کے تحت آسام کی پوری آبادی کی شناخت کے لیے جانچ پڑتال کی گئی۔

اس کے ذریعے لگ بھگ 20 لاکھ افراد کی شہریت کی تصدیق نہیں کی گئی۔ ان افراد کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ عدالت میں اپنی شہریت ثابت کریں۔ ان میں لاکھوں ہندو شامل ہیں۔

مقامی افراد کو اب یہ گلہ ہے کہ شہریت ترمیمی بل کے ذریعے یہ لاکھوں ہندو بھارتی شہریت حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔ جس سے لامحالہ وہ سرکاری ملازمتوں میں حصے سمیت دیگر ریاستی وسائل استعمال کرنے کے بھی حق دار ہو جائیں گے۔ جس سے مقامی افراد کا اپنا تشخص خطرے میں پڑ جائے گا۔ لہذٰا مقامی شہریوں کا یہ مطالبہ ہے کہ مذہب کی بنیاد پر تقسیم کے بجائے بشمول ہندوؤں ان تمام غیر ملکی تارکین وطن کو ملک بدر کیا جائے۔

بل پر عمل درآمد سے بعض ریاستوں کا انکار

بھارت کی چھ ریاستوں نے منظور کردہ بل کو اپنی ریاستوں میں نافذ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارت کی ریاستوں پنجاب، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، کیرالہ اور چھتیس گڑھ کے وزرائے اعلٰی نے اس متنازع بل پر عمل درآمد نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بھارتی پنجاب کے وزیر اعلٰی کیپٹن (ریٹائرڈ) امریندر سنگھ نے اپنی ٹوئٹ میں واضح کیا ہے کہ مذہب کے نام پر ملک کو تقسیم کرنے والے اس قانون کو وہ پنجاب میں نافذ نہیں ہونے دیں گے۔

اس کے علاوہ مغربی بنگال کی وزیرِ اعلٰی ممتا بنرجی نے بھی اعلان کر رکھا ہے ان کی ریاست میں کسی کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ کوئی بھی کسی کو ان کی ریاست سے باہر نہیں نکال سکتا۔ وہ اس قانون کو کسی صورت لاگو نہیں ہونے دیں گی۔

بل کو عدالت میں چیلنج کس نے کیا ہے؟

انڈین یونین مسلم لیگ، پیس پارٹی، ترنمول کانگریس کے علاوہ متعدد صحافیوں، قانون دانوں اور انسانی حقوق سے وابستہ افراد نے بھارت کی سپریم کورٹ میں اس بل کو کالعدم قرار دینے کے لیے درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

درخواست گزاروں کا یہ موقف ہے کہ مذکورہ بل آئین ہند کے آرٹیکل 14 کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG