رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے، امریکی محکمہ خارجہ


بھارت میں 'شہریت قانون' کے خلاف مختلف شہروں میں جاری احتجاج کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

بھارت میں شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف جاری مظاہروں اور انہیں روکنے کے لیے حکومتی اقدامات پر امریکہ کے محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔

اس سلسلے میں امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم بھارت میں شہریت کے ترمیمی ایکٹ کے حوالے سے پیش آنے والے واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

بیان کے مطابق "ہم حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ لوگوں کے پر امن اجتماع کے حق کا احترام کریں اور اسے تحفظ دیں۔ ہم مظاہرین پر بھی یہ زور دیتے ہیں کہ وہ خود کو تشدد سے دور رکھیں۔ وہ مذہبی آزادی اور مساوات پر مبنی برتاؤ کے قانون کا احترام کریں جو ہماری دو جمہوریتوں کے بنیادی اصول ہیں۔"

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ بھارت پر یہ زور دیتا ہے کہ وہ بھارت کے آئین اور جمہوری اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔

بھارت میں حال ہی میں نافذ العمل 'شہریت قانون' کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج جاری ہے جس کے پیشِ نظر دارالحکومت نئی دہلی میں ہنگامی صورتِ حال نافذ کر دی گئی ہے۔ حساس علاقوں میں پولیس کا گشت جاری ہے۔

'شہریت قانون' کے خلاف احتجاج کے دوران جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں پولیس کے زبردستی داخلے اور طلبہ کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے کے بعد احتجاج کا دائرہ دیگر یونیورسٹیوں تک پھیل گیا ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس کی اتوار کو ہونے والی چڑھائی اور پھر ہنگامہ آرائی کے بعد مظاہروں میں دیگر یونیورسٹیوں کے طلبہ بھی شامل ہو گئے ہیں۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد، بنارس ہندو یونیورسٹی، لکھنؤ یونیورسٹی، ندوة العلما لکھنؤ اور جادھو پور یونیورسٹی کولکتہ کے طلبہ بھی احتجاج کر رہے ہیں۔

پولیس نے حراست میں لیے گئے 50 طلبہ کو رہا کر دیا۔
پولیس نے حراست میں لیے گئے 50 طلبہ کو رہا کر دیا۔

لکھنؤ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ندوة العلما لکھنؤ کے طلبہ نے پیر کو احتجاج کیا جس کے دوران پولیس سے ان کا تصادم بھی ہوا۔

پولیس نے پیر کی صبح جامعہ ملیہ اسلامیہ کے حراست میں لیے گئے تقریباً 50 طلبہ کو چھوڑ دیا ہے۔

یاد رہے کہ اتوار کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ متنازع شہریت قانون کے خلاف یونیورسٹی کیمپس کے اندر مظاہرہ کیا جب کہ دوسرا بڑا مظاہرہ مقامی افراد نے کیا جو پارلیمنٹ تک مارچ کر رہے تھے۔ پولیس نے مظاہرین کو جامعہ سے دور متھرا روڈ پر روکا جس کے دوران مظاپرین نے چار بسوں کو آگ لگا دی۔

اس واقعے کے بعد دہلی پولیس کے اہلکار جامعہ کیمپس میں داخل ہوئے اور انہوں نے طلبہ پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل بھی برسائے۔ پولیس اہلکار لائبریری میں بھی داخل ہوئے اور انہوں نے وہاں موجود طلبہ کو مبینہ طور پر تشدد کا بھی نشانہ بنایا۔

اس کارروائی کے دوران پچاس سے زائد طلبہ، پولیس اہلکار اور فائر فائٹرز زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو مقامی ہولی فیملی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

پولیس کارروائی کے خلاف جے این یو، جامعہ اور دہلی یونیورسٹی کے سیکڑوں طلبہ دہلی پولیس ہیڈ کوارٹر کے سامنے جمع ہوئے۔ انہوں نے پولیس کارروائی کے خلاف رات بھر مظاہرہ کیا۔

پولیس کارروائی کے خلاف جامعہ ملیہ کے کیمپس میں طلبہ پیر کو بھی احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ طلبہ پر تشدد کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

شہریت قانون پر شدید احتجاج پر وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ شہریت قانون پر پُرتشدد احتجاج ہونا بدقسمتی ہے اور یہ مایوس کن ہے۔

انہوں نے کہا کہ بحث، بات چیت اور اختلاف جمہوریت کا اہم حصہ ہے لیکن لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچانا اور معمولات زندگی متاثر کرنا ہماری اخلاقیات کا حصہ نہیں ہے۔

بھارتی صحافی برکھا دت کا کہنا ہے کہ ہم نے شہریت قانون کی آگ جلا کر کیا حاصل کیا؟ یہ پولیس اور مظاہرین کے بارے میں نہیں ہے۔ اس سے نچلی سطح کے معاملات دب رہے ہیں۔

دریں اثنا سپریم کورٹ کی سینئر وکیل اندرا جے سنگھ سمیت کئی وکلا نے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مبینہ پولیس کارروائی کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کر لیا ہے اور اپنی درخواست میں عدالت سے پولیس کارروائی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے مذکورہ درخواست پر فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”طلبہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے اور سرکاری املاک کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔“

چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کے بقول، ”وہ اس معاملے پر منگل کو اسی صورت میں سماعت کر سکتے ہیں جب تشدد بند ہو جائے۔ اس طرح ہمیں دھونس میں نہیں لیا جا سکتا۔ سرکاری املاک تباہ کی جا رہی ہیں، بسیں نذر آتش کی جا رہی ہیں۔ یہ سب بند ہونا چاہیے۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ”میں نہیں سمجھتا کہ عدالت کچھ زیادہ کر سکتی ہے۔ یہ لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے۔ اس سے پولیس کو نمٹنا ہے۔ وہ طالب علم ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔“

دہلی پولیس ہنگامہ آرائی کے واقعے کے بعد دو مقدمات بھی درج کیے ہیں۔ لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کس کے خلاف ہیں۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ پہلے طلبا نے پتھراؤ کیا اس کے بعد ہی پولیس کیمپس میں داخل ہوئی۔ جبکہ طلبہ اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

ادھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی پولیس نے مبینہ طور پر یکطرفہ کارروائی کی جس میں جے این میڈیکل کالج علی گڑھ کے ذرائع کے مطابق وہاں 60 زخمی طلبا کو علاج کے لیے لایا گیا۔ طلبہ یونین کے سابق صدر سلمان امتیاز بھی زخمی ہوئے ہیں۔ ان کو ربڑ کی گولی لگی ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے یونیورسٹی کو پانچ جنوری تک کے لیے بند کر دیا ہے۔ ہاسٹل خالی کرائے جا رہے ہیں اور ضلعی انتظامیہ نے انٹرنیٹ سروس بھی بند کر دی ہے۔

جامعہ ملیہ کے طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس ایکشن کے خلاف مسلم یونیورسٹی کے طلبہ رات میں ساڑھے آٹھ بجے بابِ سید پر جمع ہوئے تھے جہاں ان پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ ڈپٹی پراکٹر نوید خان بھی اس وقت زخمی ہوئے جب وہ طلبہ کو واپس ہاسٹل میں جانے کی اپیل کر رہے تھے۔

طلبا کا الزام ہے کہ پولیس ہاسٹل میں داخل ہوئی اور اس نے لاٹھی چارج کرنے کے بعد طلبہ کی موٹر بائکس توڑیں جب کہ بعض ٹی وی چینلز پر پولیس کو لاٹھیوں سے موٹر بائیک توڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ریاست کے ایڈیشنل چیف سکریٹری اونیش اوستھی کے مطابق نو نومبر سے ہی ریاست کے تمام اضلاع میں حکم امتناع نافذ ہے۔ اس وقت علی گڑھ میں حالات کشیدہ مگر قابو میں ہیں۔

متعدد سیاست دانوں کی جانب سے جامعہ ملیہ اور مسلم یونیورسٹی میں پولیس کارروائی کی مذمت کی جا رہی ہے۔

خبر رساں ایجنسی 'اے این آئی' کے مطابق حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں نے صدر رام ناتھ کووند سے ملنے کا وقت مانگا ہے تاکہ وہ موجودہ صورت حال سے انہیں آگاہ کر سکیں۔

یاد رہے کہ بھارتی صدر رام ناتھ کووند نے ایوانِ بالا اور ایوانِ زیریں سے منظور ہونے والے 'سٹیزن شپ' ترمیم بل پر 13 دسمبر کو دستخط کیے تھے۔

نئے قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے نقل مکانی کر کے بھارت آنے والے ہندو، سکھ، بدھ مت، جین ازم، پارسی اور مسیحی مذاہب کے ان افراد کو شہریت دی جائے گی جو 2014 سے قبل بھارت آئے ہیں یا وہ چھ برس تک بھارت میں مقیم رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG