رسائی کے لنکس

صدام دور کا عراقی فوجی افسر داعش کا نیا سربراہ بن سکتا ہے


داعش کی خبررساں ایجنسی اعماق کی وہب سائٹ پر داعش کے جنگجوؤں کے ایک گروپ کی تصویر۔ اکتوبر 2016

البغدادی نے سن 2014 میں اپنے خلیفہ ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن مشرق وسطی أمور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے جانشین شاید خود کو خلیفہ کہلوانا نہیں چاہیں گے۔

اگر داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو ممکنہ طور پر اس کے دو نائبین میں سے ایک کو داعش کی قیادت مل سکتی ہے ۔ وہ دونوں سابق ڈکٹیٹر صدام حسین کے دور میں فوج کے عہدے دار رہ چکے ہیں۔

اسلامی انتہا پسند گروپوں پر نظر رکھنے والے ماہرین، البغدای کے کسی ممکنہ جانشین کے بارے میں واضح نہیں ہیں لیکن ان کا کہنا ہے عیاد العبیدی اور ایاز الجمالی اس عہدے کے مضبوط امیداوار ہیں ۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی غالباً بغدادی کی طرح خود کو خلیفہ کہلوانا نہیں چاہے گا۔

روس کی وزارت دفاع نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ اس کے طیاروں نے شام میں جو بم گرائے تھے ان میں بغدادی کے ہلاک ہونے کا امکان موجود ہے۔ خبررساں ادارے انٹر فیکس نے روس کے ایک سینیئر رکن پارلیمنٹ کے حوالے سے جمعے کے روز کہا تھا کہ 100 فی صد امکان یہی ہے کہ بغدادی مارا جا چکا ہے۔

لیکن اس خطے میں لڑنے والے مسلح گروپس اور امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں جن سے بغدادی کی ہلاکت کی تصدیق ہو سکے۔

ابوبکر بغدادی کے ممکنہ جانشینوں میں عبیدی کی عمر پچاس سال کے لگ بھگ ہے اور وہ داعش میں وزیر جنگ کے طور پر کام کر رہاہے ۔ جمالی کی عمر 45 سے کچھ زیادہ ہے اور وہ داعش کے سیکیورٹی سے متعلق محکمے کے سربراہ ہے۔

اپریل میں عراق کے سرکاری ٹیلی وژن نے جمالی کی ہلاکت کی خبر نشر کی تھی، لیکن اس کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی۔

ان دونوں نے سن 2003 میں صدام کا تختہ الٹنے کی امریکی فوجی کارروائی کے بعد داعش میں شمولیت اختیار کی تھی۔

ان دونوں کو سن 2016 میں ایک فضائی حملے میں داعش کے نائب امیر أبو علی انباری، چچنیا سے تعلق رکھنے والے وزیر جنگ أبو عمر الشیشانی اور پراپیگنڈہ أمور کے سربراہ أبو محمد العدنانی کی کی ہلاکت کے بعد البغدادی کے دو اعلیٰ ترین نائبین کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

البغدادی نے سن 2014 میں اپنے خلیفہ ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن مشرق وسطی أمور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے جانشین شاید خود کو خلیفہ کہلوانا نہیں چاہیں گے۔

انتہا پسندگروپس پر نظر رکھنے والے ایک عراقی ماہر فضل أبو رغیف کہتے ہیں کہ اب اس گروپ کے پاس حکمرانی کے لیے زمین نہیں ہے اور ان دونوں میں سے کوئی بھی دینی أمور پر مہارت نہیں رکھتا۔

مشرق دسطی میں انتہا پسند گروپس کے ایک اور ماہر ہاشم الہاشمی کہتے ہیں کہ خلیفہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسلامی فقہ کا ماہر ہو۔

داعش کے نئے امیر کی منظوری ایک آٹھ رکنی مجلس شوریٰ دے گی لیکن شوریٰ کے ارکان سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنا اجلاس نہیں کرتے اور وہ اپنی رائے خصوصی ہرکارے کے ذریعے بھجواتے ہیں۔

شوریٰ کے چھ ارکان کا تعلق عراق سے ہے۔ ساتواں رکن اردنی اور آٹھواں سعودی باشندہ ہے۔ ان تمام کا تعلق سنی سلافی تحریک سے رہا ہے۔ شوریٰ کا نواں رکن جو بحرین سے تھا، پچھلے سال مئی میں ایک فضائی حملے میں مار ا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG