رسائی کے لنکس

logo-print

اختر مینگل پر حملے کی مبینہ کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ


اختر مینگل کے گھر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے شخص سے برآمد ہونے والے دستی بم۔ 10 اکتوبر 2018

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے گزشتہ جولائی کے عام انتخابات میں ایک قومی اور ایک صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے تھے، تاہم بعد میں انہوں نے قومی اسمبلی کی رُکنیت کا حلف اُٹھا لیا اور صوبائی اسمبلی کی رکنیت سے چھوڑ دی تھی۔

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے راہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی پارٹی کے سر براہ اور قومی اسمبلی کے رکن سردار اختر مینگل کی ضلع خضدار کے علاقے وڈھ میں اُن کی رہائش گاہ پر بدھ کی دوپہر کو دو نامعلوم مسلح افراد نے زبردستی داخل ہونے کی کو شش کی جسے سردار اختر مینگل کے پرائیویٹ محافظین نے ناکام بنا دیا۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ دونوں مسلح افراد سر دار اختر مینگل کی رہائش گاہ پیدل پہنچے اور اندر داخل ہونے کی کو شش کی۔ مرکزی دروازے پر موجود پرائیویٹ گارڈز نے اُنہیں روکا اور تلاشي دینے کے لیے کہا جس پر انہوں نے مزاحمت کی۔ تاہم گارڈز ایک شخص کی تلاشی لینے میں کامیاب ہو گئے، جس سے اسلحہ اور دستی بم برآمد ہوئے جبکہ دوسرا شخص فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

مسلح شخص کو مقامی پولیس کے حوالے سے کر دیا گیا ہے۔

وقوعہ کے وقت سردار اختر مینگل اپنی رہائش گاہ پر موجود تھے۔ انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ مشکوک لوگ تھے۔ انہوں نے جامہ تلاشی کے خلاف مزاحمت کی۔ تلاشی پر ان سے بم برآمد ہوئے۔ جب انہیں پکڑنے کے بعد انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو سیاسی مخالف فریق نے اپنے ان گرفتار کارندوں کی رہائی کے لئے قومی شاہراہ کو بند کر دیا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ اس حملے کا منصوبہ بنانے کے پیچھے کن کا ہاتھ ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے گزشتہ جولائی کے عام انتخابات میں ایک قومی اور ایک صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے تھے، تاہم بعد میں انہوں نے قومی اسمبلی کی رُکنیت کا حلف اُٹھا لیا اور صوبائی اسمبلی کی رکنیت سے چھوڑ دی تھی، جس پر 14 اکتوبر کو انتخابات ہو رہے ہیں اور بی این پی کے اکبر مینگل اس حلقے سے اُمیدوار ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے مرکزی جنرل سیکرٹری حبیب جالب کو چند سال پہلے کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ کے قریب حملہ کر کے قتل کردیا گیا تھا جبکہ پارٹی کے دیگر ایک درجن سے زائد کارکن بھی نامعلوم افراد کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG