رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان: آواران میں ایف سی قافلے پر حملہ، دو اہلکار ہلاک


ضلع آواران میں آئی جی فرنٹیر کور ساﺅتھ بلوچستان کے قافلے پر حملے میں ایف سی کے دو اہلکار ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے۔ تاہم، آئی جی ایف سی حملے میں محفوظ رہے۔ؒ

سرکاری ذرائع کے مطابق، آئی جی فرنٹیر کور ساﺅتھ بلوچستان میجر جنرل سعید احمد ناگرا سیکورٹی اداروں کے دیگر افسران کے ہمراہ پانچ گاڑیوں پر مشتمل قافلے میں خضدار سے ضلع آواران کے علاقے بے سیمہ جا رہے تھے۔

راستے میں، واشک کے پہاڑی علاقے میں نا معلوم مسلح افراد نے قافلے میں شامل گاڑیوں پر جدید ہتھیاروں سے اندھا دُھند فائرنگ کھول دی، جس سے قافلے میں شامل فرنٹیر کور بلوچستان کے دو اہلکار ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق، آئی جی ساﺅتھ ایف سی بلوچستان حملے میں محفوظ رہے۔ تاہم، ہلاک و زخمی ہونے والے نوجوانوں کو پہلے خضدار اور بعد میں کوئٹہ پہنچایا گیا۔

اس واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ تاہم، آپریشن کی تفصیلات میڈیا کو فراہم نہیں کی گئیں۔

واقعے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں، ’بلوچ لبریشن آرمی‘ اور ’بلوچستان لبر یشن فرنٹ‘ نے مشترکہ طور پر قبول کر لی ہے؛ اور دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں کئی اہلکاروں کو ہلاک و زخمی کردیا گیا ہے۔

کوئٹہ میں جمعرات کو رات گئے پریس کانفرنس میں وزیر مملکت شہریار آفریدی نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے ایف سی حکام کے قافلے پر حملے کی مذمت کی اور کہا ہے کہ اُن کے الفاظ میں ’’یہ بزدلانہ حرکت کرنے والے پاکستان دشمن عناصر کےلئے ہمارا پیغام ہے کہ اس طرح کے بزدلانہ حملوں سے ہمارے حوصلے کبھی پست نہیں ہو سکتے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’اگر کسی کے ذہن میں یہ ہے کہ شاید یہ سیکورٹی ادارے گھبرا جائیں گے، تو پاکستان کے تمام سیکورٹی اداروں کے اہلکار ملک کی سلامتی اور مفادات پر سودے بازی کا تصور ہھی نہیں کر سکتے‘‘۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ ’’ہم سب ایک ہیں۔ اُن کےلئے ہمارا پیغام یہ ہے کہ جتنی شدت سے وہ تخر یب کاری کے بارے میں سوچتے ہیں اتنی ہی شدت سے ہمارے ایمان اور عزم مضبوط ہوتا ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’ان دہشت گردوں کے دن گنے جا چکے ہیں۔ انشاءاللہ ہم ہر سطح پر جائیںگے جس سے صوبے میں امن آئے گا‘‘۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم اُن تمام لوگوں کو جو مختلف وجوہات کی بنا پر پہاڑوں کا رُخ کر چکے ہیں اور ناراض ہیں، گلے لگانے، عزت دینے کےلئے تیار ہیں۔ وہ ہمارے پاکستانی ہیں۔ وہ ہماری عزت اور پہنچان ہیں۔ ہمارا مقصد اُن کو عزت دینا ہے‘‘۔

ضلع آواران میں اس سے پہلے بھی سیکورٹی فورسز کے قافلوں اور انتظامی افسران کی گاڑیوں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔ رواں سال جولائی کے مہینے میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر راکٹ حملے میں چھ اہلکار، اور اس سے پہلے جنوری میں ضلع تربت کے علاقے میں ایک حملے میں پانچ سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

ضلع آواران کی کالعدم بلوچ عسکری تنظیم، ’بلوچستان لبریشن فرنٹ‘ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر کا آبائی ضلع ہے آواران کی سرحدیں تربت، پنجگور اور بسیمہ سے لگتی ہیں جہاں اکثر و بیشتر سیکورٹی فورسز پر جان لیوا حملے کئے جاتے ہیں انہی اضلاع میں صوبہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سے محنت مزدوری کےلئے یا غیر قانونی راستوں سے ایران اور دیگر ممالک جانے والوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
اس سے پہلے کوئٹہ کے نواحی علاقے نواں کلی میں پولیس کے ایک ہیڈمحرر کو نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا اور موقع سے فرار ہوگئے تھے۔

واقعے کی ذمہ داری کالعدم ’تحریک طالبان پاکستان‘ نے اپنے ویب سائٹ پر جاری کئے گئے بیان میں قبول کرلی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG