رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان میں خواتین ووٹرز کی تعداد مردوں سے نمایاں کم


فائل فوٹو

ستارکاکڑ

الیکشن کمیشن اف پاکستان، بلوچستان نے صوبے میں رائے دہندگان کی تعداد کی تفصيل جاری کردی ہے جس کے مطابق پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے میں رائے دہندگان کی کُل تعداد 42 لاکھ 99ہزار 494 ہے۔ مرد ووٹرز کی تعداد 24لاکھ 86 ہزار جب کہ خواتین ووٹرز کی تعداد18 لاکھ13ہزار ہے سب سے زیادہ ووٹرز کوئٹہ میں 6لاکھ 83ہزار957 ہے۔

بلوچستان میں سب سے کم رجسٹرڈ ووٹرز زیارت میں ہیں، جن کی مجموعی تعداد 66 ہزار 7 سو کے لگ بھگ ہے، جب کہ مرد ووٹر 36 ہزار 847 اور خواتین ووٹروں کی تعداد 29 ہزار 856 ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ادارہ شماریات کے مطابق نئی مردم شماری کے مطابق بلوچستان کی کل آبادی ایک کروڑ 23 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ کی گئی ہے۔ جس میں مردوں کی تعداد 64 لاکھ کے لگ بھگ اور خواتین کی تعداد 58 لاکھ سے زائد ہے، صوبے میں خواتین کی آبادی مردوں سے چھ لاکھ کم بتائی گئی ہے۔

لیکن رائے دہندگان کے حوالے سے خواتین ووٹرز کی تعداد تقریباً پونے سات لاکھ کم ہوگئی ہے۔ تجزیہ نگار اور صحافی سعدیہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کا تناسب زیادہ ہے لیکن مردم شماری میں اُن کی کمی کی مختلف وجوہات ہیں۔

بلوچستان کے دیہی اور شہری علاقوں کے عوام نادرا ، الیکشن کمشن اور دیگر اداروں میں اپنی خواتین کوغیر محرم مردوں کے سامنے لے جانے یا اُن کی رجسٹریشن کرانا پسند نہیں کر تے۔ علاوہ ازیں ساتھ صوبے کے تقر یبا تمام شہر ی اور دیہی علاقوں میں خواتین کے بارے میں فیصلے عموماً مرد ہی کر تے ہیں۔

اگر نادرا، الیکشن کمشن اور دیگر ادارے بلوچستان میں خواتین کی رجسٹریشن کے لئے شہری اور دیہی علاقوں میں خواتین پر مشتمل عملہ تعینات کر لیں جو صرف خواتین کو رجسٹرڈ کر تی ہوں تو ایسی صورت میں صوبے کی خواتین کی صحیح تعداد سامنے آ سکتی ہے اور لوگ رجسٹریشن کے لئے بھی تیار ہو جائیں گے۔ اس کا فائدہ صوبے کو یہ ہوگا کہ وفاق سے صوبے کو آئینی حقوق، بالخصوص این ایف سی ایوارڈ میں زیادہ حصہ بھی ملنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG