رسائی کے لنکس

بلوچستان میں گردوں کی پیوند کاری کا پہلا کامیاب آپریشن


ڈاکٹر زرکون نے بتایا کہ ’’گردوں کی بیماریوں سے بچنے کے لئے لوگ صاف پانی زیادہ پئیں، گوشت کا استعمال ہفتے میں ایک بار کریں، زیادہ پیدل چلیں اور خواتین زچگی کا عمل گھروں میں نہیں بلکہ اسپتالوں یا دیہی صحت مرکز سے کروائیں‘‘

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار گردوں کے امراض میں مبتلا تین مریضوں کی مفت پیوند کاری کی گئی اور یہ عمل آئندہ بھی جاری رہے گا۔

کوئٹہ میں ’انسٹی ٹیوٹ آف نیفرو اینڈ یورولوجی‘ کے سربراہ ڈاکٹر عبدالکیریم زرکون نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں بتایا کہ گزشتہ سال فروری سے اس مرکز کو ’نیفرو‘ اور ’یورولوجی‘ کے شعبے کے ماہر ڈاکٹروں کی مدد سے فعال بنایا گیا۔

اُنھوں نے بتایا کہ، اس کے بعد سے اب تک، اس سنٹر میں روزانہ 100 مریضوں کے ’ڈائیلاسز‘ ہو رہے ہیں، جس کے بعد، اب ڈاکٹروں نے کامیابی سے آپریشن بھی شروع کیے ہیں۔

بقول اُن کے، ’’ابھی چند روز پہلے ہم نے گردے کی پیوند کاری کے تین کامیاب آپریشن کئے اور ماشاءاللہ سب مریض ٹھیک ٹھاک صحت مند ہیں؛ اور ایک یاد و دن میں گھر چلےجائیں گے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ سلسلہ ابھی جاری رہے گا اور ہر مہینے پانچ یا چھ ٹرانسپلانٹ ہوتے رہیں گے۔ ’یورولوجی اینڈ نیفرولوجی‘ کی ٹیموں نے مل کر یہ کام کیا اور عوام کو اپنے صوبے میں ایک بہترین سہولت فراہم کی۔ یہ تمام آپریشن مفت کئے گئے اور اس کے تمام اخراجات ادارے نے ہی برداشت کئے ہیں۔‘‘

Kidney Center, Quetta
Kidney Center, Quetta

بلوچستان میں اس سنٹر کو فعال بنانے سے پہلے صوبے کے دور دراز علاقوں کے مریض کراچی اور لاہور جا کر ’ڈائیلاسز‘ کرواتے تھے اور اس عمل پر، ڈاکٹروں کے بقول، 30 لاکھ روپے تک اخراجات آتے تھے۔

ڈاکٹر زرکون کا کہنا ہے کہ ’نیفرو اینڈ یورولوجی‘ کے مر کز میں روزانہ چھ سو سے زائد مریضوں کا معائنہ کیا جاتا ہے جن میں پچاس فیصد مریضوں کا تعلق پڑوسی ممالک افغانستان اور بعض کا ایران سے ہوتا ہے، جبکہ بلوچستان کے مختلف اضلاع کے ساتھ سندھ کے لوگ بھی اس مرکز سے استفادہ کرنے آتے ہیں اور ادارہ تمام مریضوں کو ہر طرح کی طبی سہولتیں مفت فراہم کر رہا ہے۔

ڈاکٹر زرکون نے بتایا کہ ’’گردوں کی بیماریوں سے بچنے کے لئے لوگ صاف پانی زیادہ پئیں، گوشت کا استعمال ہفتے میں ایک بار کریں، زیادہ پیدل چلیں اور خواتین زچگی کا عمل گھروں میں نہیں بلکہ اسپتالوں یا دیہی صحت مرکز سے کروائیں‘‘۔

’انسٹی ٹیوٹ آف نیفرو اینڈ یورولوجی‘ صوبائی دارلحکومت کے نواحی علاقے میں سمنگلی روڈ پر تقریباً سات ایکڑ اراضی پر پھیلی ہوئی ہے اور فی الوقت یہاں صرف پچاس مریضوں کو داخل کرنے کی گنجائش ہے۔ ڈاکٹر زرکون کا کہنا ہے کہ وہ اس میں توسیع کرکے یہاں 200 مریضوں کو بیک وقت داخل کرنے اور صوبے میں گردے کی بڑھتی ہوئی بیماریوں کے پیش نظر ہر ضلع میں اس ادارے کی ایک ذیلی شاخ قائم کرنے کی کو شش کر رہے ہیں۔

انہوںؒ نے کہا کہ اب تک تو ادارہ یہاں آنے والے تمام مریضوں کا مفت ٹرانسپلانٹ کرتا ہے۔ ادویات کی قیمت اور ٹیسٹ کے پیسے بھی نہیں لئے جاتے۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور ملکی و بین الااقوامی اداروں کی طرف سے مالی امداد کے بغیر شاید یہ سلسلہ زیادہ دیر تک جاری نہ رکھا جا سکے۔

انہوں نے بین الااقوامی امدادی اداروں سے اپیل کی کہ وہ غربت کے مارے اس جنوب مغربی صوبے کی مدد کو آگے آئیں اور ادارے کی مالی مدد کر یں۔

قدرتی وسائل سے مالا مال اس جنوب مغربی صوبہٴ بلوچستان کے دوردراز علاقوں میں صحت کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور لوگ مختلف بیماریوں کا علاج کرانے کے لئے کراچی یا ملک کے دیگر شہروں میں جانے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں گردوں کی بیماریوں کے علاج کےلئے یہاں آنے والے لوگ، جو کہ مرکز کے مختلف حصوں میں درختوں کے سایے میں بیٹھنے پر مجبور ہیں، وہ اس مرکز کو ایک نعمت قرار دیتے ہیں۔

بلوچستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے کے عوام کو ان کے اپنے اضلاع میں طبی سہولتیں فراہم کرنے کےلئے حکومت نے شعبہ صحت کے بجٹ میں کئی گناہ اضافہ کر کے 35 ارب روپے مختص کر دئیے ہیں۔

تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور دیگر عملے کی موجودگی کو یقینی بنائے بغیر بجٹ میں اضافے کا عوام کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔

XS
SM
MD
LG