رسائی کے لنکس

logo-print

ضلع پشین میں دو پرائمری اسکول نذر آتش


خیبر پختونخوا میں طالبان کے ہاتھوں نذرِ آتش ہونے والے ایک اسکول کے فرش پر جلی ہوئی کتابیں اور کاپیاںبکھری پڑی ہیں۔ (فائل فوٹو )

اسکول کو اس وقت آگ لگائی گئی جب وہ بند تھا، اس لیے اس واقعہ میں کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔

بلوچستان کے شمالی ضلع پشین میں نا معلوم افراد نے ایک گرلز پرائمری اسکول سمیت دو اسکولوں کو آگ لگا دی۔ لیویز نے چھ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن سے واقعہ کے بارے میں تفتیش کی جارہی ہے۔

ضلع پشین کے ایک لیویز افسر عبداللہ خان نے وائس اف امریکہ کو بتایا کہ ضلع کی ایک تحصیل خانوزئی کے علاقے نانا صاحب زیارت میں نا معلوم افراد نے پیر اور منگل کے درمیانی رات کو علاقے کے تین کمروں پر مشتمل ایک گرلز پرائمری اسکول کو آگ لگا دی تھی جس سے گرلز اسکول کا ایک کمرہ اور کمرے میں رکھی ہوئی میز اور کر سی مکمل طور پر جل گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسی علاقے میں دو کمروں پر مشتمل لڑکوں کے ایک پر ائمری اسکول کو بھی آگ لگا دی گئی تھی جس سے کمرے کا دروازہ جل گیا ہے۔

عبداللہ خان نے بتایا کہ دونوں اسکولوں کی چار دیواری نہیں تھی جس سے تخر یب کاروں فائدہ اُٹھا یا ۔ اس سلسلے میں علاقے کے چھ مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تحقیقات کی جارہی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں تخر یب کاری کے امکان کو بھی سامنے رکھا جا رہا ہے اور اس میں ملوث عنا صر کو معاف نہیں کیا جا ئے گا۔

محکمہ تعلیم حکومت بلوچستان کے حکام کے بقول صوبے کے بارہ ہزار سے زائد اسکولوں میں سے70 فیصد میں پینے کے پانی، بجلی، گیس اور بیت الخلاء کو ئی سہولت نہیں ہے اور چھ ہزار اسکولوں کی چار دیواری ہی نہیں ہے، جبکہ ہزاروں اسکول صرف ایک کمرے پر مشتمل ہیں۔

واضح رہے کہ 2013 کے انتخابات کے بعد صوبے میں بننے والے صوبائی مخلوط حکومت میں بلوچستان میں تعلیم کے فروغ کے لئے تعلیمی ایمرجینسی کے نفاذ کے ساتھ تعلیم کے بجٹ میں بھی اضافہ کیا تھا لیکن اس کے باوجود صوبے کی تعلیمی پس ماندگی دور کرنے میں کوئی نمایاں کامیابی نظر نہیں آتی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG