رسائی کے لنکس

دیر بالا میں شدت پسندوں کا دوسرا حملہ

  • شمیم شاہد

دیر بالا میں شدت پسندوں کا دوسرا حملہ

پولیس کا کہنا ہے کہ افغان سرحد عبور کرکے پاکستان میں داخل ہونے والے سینکڑوں عسکریت پسندوں نے ضلع دیر بالا میں ایک اور حملہ کیا ہے۔

حکام نے بتایا کہ شدت پسندوں نے جمعہ کو سرحدی علاقے نصرت درہ کو نشانہ بنایا اور اطلاعات کے مطابق ایک اسکول کو بھی نذر آتش کر دیا ۔

سکیورٹی فورسز بشمول نیم فوجی فورس فرنٹیئر کور نے علاقے کا محاصرہ کر کے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے جس میں اُنھیں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل ہے۔ اطلاعات کے مطابق مقامی لوگ بھی مورچے بنا کر شدت پسندوں کا مقابلہ کر رہےہیں۔

رواں ہفتے دیر بالا کے علاقے میں سرحد پار افغانستان سے آنے والے شدت پسندوں کا یہ دوسرا بڑا حملہ ہے اس سے قبل دور افتادہ علاقے شل تالو میں سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پرعسکریت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔

بدھ کی صبح لگ بھگ 400 جنگجوؤں نے چوکی پر حملہ کر کے وہاں تعینات پولیس اور لیویز فورس کے کم از کم 25 اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا جب کہ 24 گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والی جھڑپوں میں ایک خاتون سمیت تین شہری بھی مارے گئے تھے۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لڑائی میں 40 سے زائد شدت پسند بھی ہلاک ہوئے لیکن اس دعویٰ کی غیر جانب دار ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے کیوں کہ حملہ آور جمعرات کو علاقے سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے اپنے ساتھیوں کی لاشیں ساتھ لے گئے تھے۔

حکام کے بقول شل تالو کا علاقہ اب سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے اور عسکریت پسندوں کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے یہاں تلاشی کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستانی حکومت نے سرحد پار سے کیے گئے اس حملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے افغان اور نیٹو افواج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

XS
SM
MD
LG