رسائی کے لنکس

ساجد حسین کے قتل پر بلوچستان کے صحافیوں کی تشویش


ساجد حسین، فائل فوٹو

بلوچستان کے ضلع تربت سے تعلق رکھنے والے صحافی ساجد حسین کے قتل پر بلوچستان کے صحافیوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ صوبے کے صحافی اگر بیرون ملک بھی محفوظ نہیں ہیں تو کیا وہ سچ بولنا یا لکھنا چھوڑ دیں۔

بلوچستان یونین آف جرنلٹس کے صوبائی جنرل سیکرٹری رشید بلوچ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس ملک میں ساجد حسین کی نعش برآمد ہوئی ہے، یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی تحقیقات کرے اور قتل کے تمام محرکات کو سامنے لائے، کہ آیا ان کی ہلاکت طبعی تھی، وہ اغوا ہوئے تھے یا کسی نے انہیں قتل کیا۔ یہ تمام حقائق سامنے لانا اس ملک کی ذمہ داری ہے اور اسے چاہیے کہ وہ کے خاندان کو اس بارے میں مطمئن کرے کہ کس طرح یہ واقعہ ہوا۔

رشید بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ کہا جا رہا تھا کہ ساجد حسین تین چار ماہ سے لاپتہ تھے اور اُن کے خاندان والوں نے پولیس کو ان کی گمشدگی کے متعلق بتایا بھی تھا۔ اس کی بعد ساجد حسین کی نعش سمندر کے کنارے پڑی ملی۔ یہ تمام باتیں قبل از وقت ہوں گی، جب تک سویڈن کی حکومت تحقیقات مکمل نہ کرے اور اس کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہ آئے۔

بی یو جے کے صوبائی جنرل سیکرٹری کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ دس پندرہ برسوں میں پچیس صحافیوں ہدف بنا کر ہلاک کیا گیا اور 40 کے قریب بم دھماکوں وغیرہ میں مارے گئے۔ اب یہ جو واقعہ ہوا ہے اس سے ضروری نہیں کہ خوف و ہراس پھیلے، کیونکہ بلوچستان کے صحافی پہلے سے ہی خوف و ہراس کی فضا میں زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ کہیں بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔ ہمارے جتنے بھی صحافی قتل ہوئے، اُن کی ایف آئی آر بھی آج تک درج نہیں کی گئی، نہ ہی یہ تعین کیا گیا کہ انہیں کس نے قتل کیا۔ اس لیے صحافیوں میں خوف تو پہلے سے ہی موجود ہے۔

رشید بلوچ کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صحافی چاہے جہاں کہیں بھی ہوں وہ خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔ ساجد حسین کا واقعہ اس کی واضح مثال ہے۔ ہمارے صحافی نچلے درجے کے متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، وہ اپنی حفاظت کے لیے گارڈز وغیرہ نہیں رکھ سکتے۔

بی یو جے کے جنرل سیکرٹری کا کہنا ہے کہ جس جرنلسٹ نے بھی بلوچستان کے حالات کی صحیح عکاسی یا ترجمانی کی، اسے سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کی سطح پر بھی۔ اگر کو صحافی سچ لکھتا یا بولتا ہے تو اسے کہیں نہ کہیں سے دھمکیاں مل جاتی ہیں۔ یہ سلسلہ ایک عرصے سے چلا آ رہا ہے۔

قدرتی وسائل سے مالامال اس جنوب مغربی صوبے میں 2001 سے صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور صحافتی تنظیموں کے بقول صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 50 سے زائد صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے، تاہم ان میں سے کسی کے قتل کا آج تک کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا۔

صحافیوں کو صوبے میں جہاں ریاست کے خلاف برسر پیکار بلوچ عسکری تنظیموں کی طرف سے دباﺅ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہاں بعض اوقات سرکاری ادارے بھی صحافیوں پر کافی دباؤ ڈالتے اور دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG