رسائی کے لنکس

صوبہٴ بلوچستان کے دارالحکومت، کوئٹہ کے نواحی علاقے میں سکیورٹی فورسز کے چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں چھ اہلکار زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق، منگل کی رات کو صوبائی دارلحکومت سے تقریباً 15 کلومیٹر دور پاک افغان سرحد کی طرف جاتے ہوئے بلیلی کے علاقے میں ایک خشک ندی سے نا معلوم خودکش حملہ آور فرنٹیر کور کی چیک پوسٹ کی طرف آیا اور اُس کے قریب بنائی گئی چوکی کے ساتھ اپنے جسم کے ساتھ باندھے گئے بارود میں زوردار دھماکہ کیا جس کی زد میں آکر فرنٹیر کور کے 6 اہلکار زخمی ہوگئے۔

دھماکے کے بعد ایف سی اہلکاروں نے خودکش حملہ آور کے دیگر ساتھیوں کو چیک پوسٹ سے دور رکھنے کے لئے ہوائی فائرنگ کی جو کئی منٹ تک جاری رہی۔

فائرنگ ختم ہونے کے بعد تمام زخمیوں کو ملٹری اور ایف سی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں دو جوانوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

بم ڈسپوزل کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ دھماکے میں چھ کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا؛ اور یہ ایک دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) دھماکہ تھا۔ ادارے کے ماہرین کے بقول، موقع پر کوئی فرانزک شہادت نہ ہونے کے باعث اس کو خودکش حملہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان کی طرف سے میڈیا کو جاری کئے گئے بیان میں قبول کی گئی ہے۔

بلوچستان میں گزشتہ 18 دنوں میں یہ دوسرا خودکش حملہ اور 33 دنوں میں یہ چوتھا دھماکہ تھا۔ ان دھماکوں میں 17 افراد ہلاک دس زخمی ہوئے ہیں۔

گزشتہ سال 2017ء صوبے بھر میں دیسی ساختہ بموں، بارودی سرنگوں، فرقہ ورانہ دہشت گردی، دستی بموں اور تشدد کے دیگر 300 سے زائد واقعات میں سمیت 370 ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG