رسائی کے لنکس

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بلوچستان میں اساتذہ اور سیاسی کارکنوں کی ہلاکتوں کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی طور قابل قبول نہیں ہیں اور حکومت سے ان کے سدباب کے لیے بھرپور کوششیں کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایچ آر سی پی کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ میں پروفیسر صبا دشتیاری کوموٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے قتل کردیا اور ایک سیاسی کارکن نسیم جانگیان کی تربت میں ہلاکت کو پولیس ٹارگٹ کلنگ قرار دے رہی ہے۔ ”بلوچستان میں یہ اپنی نوعیت کے یہ پہلے واقعات نہیں ہیں اور اگر خاطر خواہ اقدمات نہ کیے گئے تو یہ آخری نہیں ہوں گے۔“

بیان میں بھاری تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے باوجود قاتلوں کی عدم گرفتاری کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے اگر کوئی حکمت عملی ہے تو وہ ناکام ہوچکی ہے اور اس پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ اس خونریزی کو روکنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔ بلوچستان میں اساتذہ اور سیاسی کارکنوں پر تشدد اور ان کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی تحقیقات ترجیحاتی بنیادوں پر کی جائیں۔ مزید برآں صورتحال اس بات کی بھی متقاضی ہے کہ ملک بھر میں خصوصاً بلوچستان میں اسلحے کی بھرمار پرسنجیدہ توجہ دی جائے۔

صوبائی سیکرٹری داخلہ ظفر اللہ بلوچ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ صوبائی حکومت نے امن و امان کی صورت کو برقرار رکھنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ ہدف بنا کر کی جانے والی ہلاکتوں میں ملوث ہونے کے شبے میں کئی افراد کا حراست میں لیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG