رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان میں دہشت گرد حملے میں چھ سیکیورٹی اہل کار ہلاک


فائل فوٹو

ستارکاکڑ

بلوچستان کے جنوبی مغر بی ضلع آواران میں فرنٹیر کور بلوچستان کے اہل کاروں کی گشتی پارٹی پر حملے کر کے 6 اہل کاروں کو ہلاک اور دو کو زخمی کردیا ہے۔

ضلع آواران کے اسٹنٹ کمشنر حاصل خان نے ٹیلیفون پر وائس اف امر یکہ کو بتایا کہ پیر کو ضلع آواران کی تحصیل مشکے کے علاقے ٹھنک میں فرنٹیر کور بلوچستان کے اہل کاروں کا قافلہ معمول کی گشت پر تھا کہ قریبی پہاڑی علاقے سے نا معلوم مسلح افراد نے قافلے پر جدید اور خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ کی اور راکٹ فائر کئے جس سے ایف سی کے چھ اہل کار مو قع پر ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ۔

ہلاک ہونے والے جوانوں کی میتوں اور زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے قر یبی ضلع خضدار کے ایک اسپتال میں منتقل کر دیا گیا جہاں سے بعد میں اُن کی میتوں کو آبائی علاقوں میں روانہ کیا جائے گا ۔

تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ، تاہم اس سے پہلے علاقے میں ہونے والی ایسی کارروائیوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکر ی تنظیم بلوچستان لبر یشن فرنٹ قبول کر تی رہی ہے۔

فرنٹیر کور بلوچستان کے اہل کاروں پر اس سے پہلے کئی بار حملے کئے جا چکے ہیں جس میں فورس کئی جوان جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

رواں سال جنوری میں تربت میں ایف سی کے اہل کاروں پر حملہ کیا گیا تھا جس میں پانچ جوان ہلاک ہو گئے تھے۔

فرنٹیر کور بلوچستان کی طرف سے صوبے کے مختلف علاقوں میں آپریشن کے دوران درجنوں بلوچ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کے دعوے کئے گئے ہیں۔

ضلع آواران بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سر براہ ڈاکٹر اللہ نذر کا آبائی ضلع ہے۔ اس ضلع میں پاک چین اقتصادی راہداری پر کام کرنے والے فرنٹیر ورکس آرگنا ئزیشن کے اہل کاروں پر بھی متعدد حملے کئے جا چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG