رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی فلموں کی پاکستانی سنیما گھروں میں نمائش پر پابندی


پاکستانی سنیما گھروں میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بھارتی فلموں کو نمائش کی اجازت دیدی گئی۔ لیکن، سال 2016 میں اوڑی حملہ کے بعد بھارتی بیانات کے بعد سنیما مالکان نے ازخود بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی لگائی جو چند ماہ بعد اٹھا لی گئی

پاکستان میں بھارتی فلموں کے شائقین کے لیے بری خبر۔ پاکستان نے بھارتی فلموں کی ملک بھر کے سنیما گھروں میں نمائش اور اشتہارات پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اس بات کا اعلان وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’سنیما ایگزیبیٹرز ایسوسی ایشن‘ نے بھارتی فلموں کا بائیکاٹ کر دیا ہے، جس کے بعد کوئی بھی بھارتی فلم پاکستان میں ریلیز نہیں کی جائے گی۔

فواد چوہدری نے یہ بھی کہا کہ فلموں کی پابندی کے ساتھ ’پیمرا‘ کو بھی اس بات کی ہدایت کردی گئی ہے کہ وہ پاکستان میں چلنے والے بھارتی اشتہارات پر کارروائی کرے۔

فواد چوہدری نے یہ ٹوئٹ پرنس وسیم نامی ایک صارف کو مخاطب کرتے ہوئے کی جس میں صارف نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ بھارتی فلمیں اور گیتوں پر پابندی عائد کرنا بھی بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے مترادف ہے۔

پاکستان میں ایک عرصے تک بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی رہی۔ ساٹھ کی دہائی میں پاکستانی فلموں کے ساتھ ساتھ بھارتی فلمیں بھی سینما گھروں کی زینت بنتی تھیں۔ لیکن،1965 کی جنگ کے بعد بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی لگا دی گئی۔ کئی سالوں تک یہ پابندی جوں کی توں رہی۔

بعد ازاں صدر ضیاالحق کے دور میں بھی اس پابندی پر سختی سے عمل ہوا۔ لیکن 1980 کی دہائی میں وی سی آر آنے سے بھارتی فلموں کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور پاکستانی شائقین وی سی آر پر بھارتی فلمیں دیکھنے لگے۔

پاکستانی سنیما گھروں میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بھارتی فلموں کو نمائش کی اجازت دیدی گئی۔ لیکن، سال 2016 میں اوڑی حملہ کے بعد بھارتی بیانات کے بعد سنیما مالکان نے ازخود بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی لگائی جو چند ماہ بعد اٹھا لی گئی۔

پاکستان نے اب ایک بار پھر سنیما گھروں میں بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی لگا دی ہے۔ لیکن، یہ پابندی کب تک رہے گی اس حوالے سے حکومت نے آگاہ نہیں کیا۔

فلموں کے ساتھ ساتھ اشتہارات پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، جس سے کئی اشتہاری کمپنیوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ اکثر اشتہارات بہتر تکنیکی سہولیات بھارت میں ہونے کی وجہ سے وہیں بنوائے جاتے تھے اور بالی وڈ کے معروف فنکاروں کو لیا جاتا تھا۔ لیکن اب حکومتی ہدایات کے پیش نظر پیمرا نے ان اشتہارات کو بھی نہ چلانے کا حکم دیا ہے۔

اس سے قبل پاکستانی فنکاروں کے ایک گروہ نے بھی لاہور میں بھارتی فلموں کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، جبکہ بھارت میں پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کام کرنے پر پہلے ہی پابندی عائد ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG