رسائی کے لنکس

logo-print

بنگلہ دیش میں گمشدگیوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ


انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے بنگلہ دیش کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ لاپتا ہونے والے حزب مخالف اور سیاسی کارکنوں کی حالیہ دنوں میں بڑھتے ہوئے واقعات کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دے۔

ہیومن رائٹس واچ نے جمعہ کے روز کہا کہ سیاستدانوں اور کارکنوں کی تازہ ترین گمشدگیوں میں حزب مخالف کی بڑی جماعت کے الیاس علی اور محنت کشوں کے ایک سرگرم کارکن امین الاسلام شامل ہیں۔ الیاس 17 جب کہ امین 14 اپریل سے لاپتا ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں قائم انسانی حقوق کے ایک گروپ نے رواں سال اب تک 22 گمشدگیاں درج کی ہیں جب کہ ایک اور تنظیم کے مطابق 2010ء سے 50 سے زائد افراد لاپتا ہو چکے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا کے لیے ڈائریکٹر براڈ ایڈمز کہتے ہیں گمشدگیوں کی ’’مصدقہ اور آزادانہ تحقیقات‘‘ ہونی چاہیئں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے اس بابت کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔

تنظیم کے مطابق اس کے پاس بنگلہ دیش کی سکیورٹی فورسز خصوصاً ریپڈ ایکشن بٹالین کی طرف سے ہلاک اور اغواء کیے جانے والے افراد کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ مزید برآں آخری بار بنگلہ دیشی سکیورٹی فورسز کی تحویل میں دیکھے جانے والے افراد کی گمشدگیوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ایڈمز کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے ’’متعدد بار وعدے‘‘ کیے لیکن سکیورٹی فورسز کی طرف سے ایسی کارروائیوں کے ثبوت کو تواتر سے نظر انداز کیا جارہا ہے۔ ان کے بقول اسی وجہ سے ان معاملات کی آزادانہ تحقیقات کی ’’فوری ضرورت‘‘ ہے۔

XS
SM
MD
LG