رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش روہنگیا مہاجرین کے لیے مرکزی کیمپ قائم کرے گا


کاکسز بازار

قدرتی آفات اور امدادی کام کے قلمدان کے وزیر، مفضل حسین چودھری مایا نے بتایا ہے کہ روہنگیا جو اس وقت ملک کی سرحد پر قائم 23 کیمپوں میں بٹے ہوئے ہیں، اُنھیں کاکسز بازار کے ایک مرکزی کیمپ میں منتقل کیا جائے گا

اہل کاروں نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ بنگلہ دیش دنیا کا سب سے بڑا مہاجر کیمپ تعمیر کرے گا، جس میں میانمار سے بھاگ کر بنگلہ دیش پہنچنے والے پانچ لاکھ سے زائد روہنگیا افراد کی رہائش کی گنجائش ہوگی۔

قدرتی آفات اور امدادی کام کے قلمدان کے وزیر، مفضل حسین چودھری مایا نے بتایا ہے کہ روہنگیا جو اس وقت ملک کی سرحد پر قائم 23 کیمپوں میں بٹے ہوئے ہیں، اُنھیں کاکسز بازار کے ایک مرکزی کیمپ میں منتقل کیا جائے گا۔

چودھری نے کہا ہے کہ منتقلی کا کام مکمل ہونے کے بعد، باقی سارے کیمپ بند کر دیے جائیں گے۔

دریں اثنا، اقوام متحدہ نے، جس نے روہنگیا مہاجرین کی فراخدلانہ میزبانی پر بنگلہ دیش کو سراہا ہے، جمعرات کو کہا کہ ادارے کی جانب سے بحران سے نمٹنے کے لیے 43 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی امداد فراہم کی جائے گی، تاکہ بنگلہ دیش میں دس لاکھ سے زائد لوگوں کی مدد کی جاسکے، جن میں روہنگیا مہاجرین شامل ہیں جو 25 اگست سے پہلے ملک میں داخل ہوئے، اور اُن کے علاوہ میزبانی کرنے والی مقامی برادریوں کی مدد کی جائے گی۔

ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ تین کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی مجموعی امداد میں سے دو کروڑ 80 لاکھ ڈالر بنگلہ دیش کو دیے جائیں گے، جو اِس تنازع کے نتیجے میں متاثر ہونے والے افراد کی امداد پر خرچ ہوں گے۔

حالیہ ہفتوں کے دوران، پانچ لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان میانمار سے بھاگ کر بنگلہ دیش پہنچے ہیں، جہاں اُنھیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور امتیازی سلوک درپیش تھا۔

روہنگیا شدت پسندوں نے اگست کے اواخر میں میانمار کی سلامتی افواج پر حملہ کیا تھا۔ تب سے، تجزیہ کار اور انسانی حقوق سے وابستہ کارکنان کا کہنا ہے کہ فوج نے سفاکانہ نوعیت کی کارروائی شروع کر رکھی ہے، جس میں بھاگ نکلنے والوں کے دیہات کو نذر آتش کرنا اور خواتین اور بچوں کو ہلاک کرنا شامل ہے۔

میانمار کے حکام کا کہنا ہے کہ جھڑپیں بند ہوچکی ہیں۔ لیکن، ہجرت جاری ہے، اور روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی ہمسایہ بنگلہ دیش میں آمد جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG