رسائی کے لنکس

کالعدم جماعت کی روہنگیا متاثرین کے نام پر عطیات کی مہم


بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کا ایک کیمپ
بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کا ایک کیمپ

اشتہار میں مردوں، عورتوں اور بچوں کو دردناک حالات میں دکھاتے ہوئے امداد کی رقوم تجویز کی گئی تھیں ۔ مثال کے طور پر ایک خاندان کو تین ماہ تک مدد فراہم کرنے پر لگ بھگ پانچ سو ڈالر خرچ ہوں گے۔

پاکستان میں قائم ایک تنظیم جو دہشت گرد تنظیموں سےمتعلق اقوام متحدہ اور امریکہ دونوں کی فہرست میں شامل ہے، روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے نام پر کھلم کھلا عطیات اکٹھے کر تی رہی ہے۔

پاکستان کے شہر راول پنڈی کے لوگوں کو پیر کے روز کچھ اخباروں کے اندر دستی اشتہار ملے جن کے دونوں جانب بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں موجود روہنگیا مسلمانوں کو خوراک فراہم کرنے کے لیے عطیات کی درخواست کی گئی تھی۔ یہ اپیل دہشت گرد تنظیموں سے متعلق اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل ایک تنظیم جماعت الدعویٰ کی جانب سے کی گئی تھی۔

اس دستی اشتہار میں مردوں، عورتوں اور بچوں کو دردناک حالات میں دکھاتے ہوئے امداد کی رقوم تجویز کی گئی تھیں ۔ مثال کے طور پر ایک خاندان کو تین ماہ تک مدد فراہم کرنے پر لگ بھگ پانچ سو ڈالر خرچ ہوں گے۔

گروپ کے ایک ترجمان عبدا لرحمان نے کہا کہ وہ بنگلہ دیش میں ایک بڑی امدادی کارروائی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم دریائے ناف کے ساحلوں پر موجود 63 ہزار لوگوں کو روزانہ خوراک فراہم کر رہے ہیں۔

اگرچہ وائس آف امریکہ اس بیان کو غیر جانبدار طریقے سے تصدیق نہیں کر سکا ہے تاہم بنگلہ دیش کے ایک صحافی علی أحسن نے اسے ایک جعلی خبر قرار دیا۔

أحسن نے جو روہنگیا کے مسائل کی کوریج کے لیے علاقے میں موجود ہیں، کہا اگر کوئی اتنے بڑے پیمانے پر اتنی بڑی امدادی کارروائی کر رہا ہوتا تو انہوں نے اس کے بارے میں ضرور سنا ہوتا۔

علاقے میں مقیم ایک اور صحافی نوپا عالم نے بھی اس کی ترديد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسے کسی گروپ کے بارے میں نہیں سنا ہے۔

پاکستان کی حکومت کے ایک ترجمان، مصدق ملک نے کہا کہ عہدے داروں نے اس فلاحی کارروائی کے بارے میں سنا تھا اور انہوں نے پولیس کو پہلے ہی ہدایت دے دی ہے کہ وہ قصورواروں کے خلاف اقدام کریں۔

XS
SM
MD
LG