رسائی کے لنکس

logo-print

کالعدم تنظیمیں پاکستان پر عالمی دباؤ میں اضافے کا باعث بنی رہیں


Sheikh Yaqub (C) candidate of the newly-formed Milli Muslim League party, waves to his supporters at an election rally in Lahore, Pakistan, Sept. 14, 2017.

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے عامر رانا کہتے ہیں کہ پاکستان کی مشکل معاشی صورتحال اور ایف اے ٹی ایف کے سخت احکامات کی وجہ سے پاکستان اس وقت سنجیدہ نظر آرہا ہے

پاکستان میں وفاقی حکومت نے ماضی میں لشکر طیبہ کے نام سے کام کرنے والی تنظیم جماعت الدعوۃ اور اس کے ذیلی ادارے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں حکومتی کنٹرول میں لینے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان میں اب کالعدم تنظیموں کی تعداد 70 ہوگئی ہے۔ ان میں سے کئی تنظیمیں اب بھی نام بدل کر کام کر رہی ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان ان تنظیموں کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہے۔

گذشتہ روز وفاقی حکومت نے انسداد دہشت گردی کے ادارے نیکٹا کی فہرست میں دو مزید تنظیموں کو شامل کیا جو اس سے قبل شیڈول ٹو اور زیرنگرانی لسٹ میں شامل تھیں۔ یہ دو تنظیمیں جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن ہیں۔

نیکٹا کی فہرست میں شامل تنظیموں میں سے بہشتر تنظیمیں ایسی ہیں جو نام تبدیل کرنے کے بعد مختلف ناموں سے کام کر رہی ہیں۔ ان میں سپاہ صحابہ پاکستان بھی ہے جو اس وقت نام تبدیل کرکے اہلسنت والجماعت کے نام سے کام کر رہی ہے۔ لشکر طیبہ نام تبدیل کرکے جماعت الدعوۃ کے نام سے کام کر رہی تھی۔

مصنف اور صحافی مجاہد حسین اس حوالے سے کہتے ہیں کہ اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ان میں سے اکثر تنظیمیں ریاست کے مددگار کے طور پر کام کرتی رہیں جس کی وجہ سے ریاست ان کے خلاف کارروائی سے گریزاں رہی۔ لشکر طیبہ اگر بھارت میں کارروائیاں کر رہی ہے تو یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی مدد ہے۔ لہذا، ان کو شیلٹر دیا گیا اور دباؤ پڑنے پر انہیں نیا نام دیا گیا۔ اب یہ بات کوئی راز نہیں ہے۔ ایسی ہی صورتحال مذہبی تنطیموں کے لیے بھی رکھی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پلوامہ سے پہلے ممبئی حملوں جیسا بڑا حملہ ہو لیکن پاکستان نے ان تنظیموں کے خلاف بڑی کارروائی نہیں کی۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان سفارتی محاذ پر تنہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اب جو کارروائی ہو رہی ہے وہ بین الاقوامی دباؤ ہے، ایف اے ٹی ایف کی وجہ سے پاکستان یہ اقدام کر رہا ہے۔

ان تنظیموں کی وجہ سے پاکستان پر عالمی دباؤ میں اضافہ ہوتا رہا۔ لیکن، پاکستان خارجہ محاذ پر ان کا کیس لڑتا رہا۔ لیکن حالیہ عرصے میں پاکستان پر دباؤ بڑھ جانے کے بعد اب بظاہر ایسا نظر آرہا ہے کہ پاکستان کو ان تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنا ہوگی۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے عامر رانا کہتے ہیں کہ اب پاکستان کے لیے شاید ایسا کرنا ممکن نہ ہو۔ پاکستان کی مشکل معاشی صورتحال اور ایف اے ٹی ایف کے سخت احکامات کی وجہ سے پاکستان اس وقت سنجیدہ نظر آرہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کو ہمیشہ لگتا رہا کہ یہ گروپس ان کے سٹریٹجک اثاثے ہیں۔ اس کے علاوہ ان تنظیموں کے طاقت کا خوف بھی غالب رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس پریشر کے حوالے سے احساس مختلف رہا۔ لیکن اب مشکل معاشی صورتحال کے باعث پاکستان کو معاشی خطرات لاحق ہیں۔ لہذا، اب پاکستان اس حوالے سے سنجیدہ نظر آرہا ہے۔ ان تنظیموں کے خلاف صرف ایکشن نہیں بلکہ ان تنظیموں کے لوگوں کو عام لوگوں کی زندگی کی طرف لانا اور قومی دھارے میں شامل کرنا بھی ایک چیلنج ہوگا۔

پاکستان میں کام کرنے والی ان تنظیموں کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ ملک کی معاشی حالت بھی ہے۔ ان تنظیموں کو افراد قوت ان کے مدارس سے حاصل ہوتی ہے جہاں تعلیم،خوراک رہائش سب مفت فراہم کی جاتی ہے۔ ان کالعدم تنظیموں میں سے بعض کا نیٹ ورک کچھ علاقوں تک محدود ہے جبکہ بعض تنظیموں جیسے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کا نیٹ ورک ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے۔

ان تنظیموں سے منسلک افراد عموماً مذہب کو بنیاد بنا کر عام طور پر انتہائی غریب افراد کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں مفت علاج معالجے اور راشن کی فراہمی کی جاتی ہے جس کے بعد ان کے پاس افرادی قوت کے لیے لوگ فراہم ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

ان تنظیموں کو فنڈز کی فراہمی بھی ایک سوال ہے کہ ان کے پاس ان تمام کاموں کو جاری رکھنے کے لیے فنڈز کہاں سے فراہم ہوتے ہیں۔ اکثر شہروں میں بڑے بڑے کاروباری افراد زکواۃ یا مدارس کی امداد کے نام پر انہیں بھاری رقوم فراہم کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں ان تنظیموں کی طرف سے انہیں مکمل معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رمضان کے دوران راشن اور عید قرباں پر قربانی کی کھالیں بھی ان کی آمدن کا ایک ذریعہ ہیں۔ لیکن بعض تنظیمیں جن میں کالعدم تحریک طالبان بھی شامل ہے ان پر بنک ڈکیتیوں اور اغوا برائے تاوان کا الزام بھی لگایا جاتا ہے، جن کی مدد سے وہ اپنے تمام تر اخراجات پورے کرتے رہے۔

حال میں پابندی کی شکار فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کا نیٹ ورک ملک بھر میں موجود ہے اور ان کے مدارس، مساجد اور طبی مراکز چھوٹے شہروں میں بالخصوص موجود ہیں جہاں مفت طبی امداد فراہم کی جاتی ہے جبکہ سیلاب یا زلزلے کے دوران بھی ان کے کارکن بڑی تعداد میں حرکت میں آتے رہے جس سے عام لوگ متاثر ہوکر انہیں فنڈز یا سامان فراہم کرتے رہے۔

صحافی سبوخ سید کہتے ہیں کہ جہادی تنظیمیں عام طور پر ان جذبات کو ایکپسلائٹ کرتی ہیں جنہیں حکومت ایڈریس نہیں کرتی، کشمیر، افغانستان، روہنگیا، فلسطین کا نام تو لیا جاتا ہے۔ لیکن عملی طور پر کوئی حکومت یا سیاسی جماعت ان کے لیے کچھ نہیں کرتی۔ ایسے میں ملک میں ایسا ماحول بنا ہے کہ پاکستان امت مسلمہ کا ٹھیکیدار ملک ہےجو تمام مسائل حل کرے گا۔ اس تاثر کی وجہ سے لوگ اس عمل میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن سیاسی یا حکومتی سطح پر جب کوئی اور نمائندگی نہیں کرتا تو ایسے وقت میں جہادی تنظیمیں سامنے آتی ہیں جو ان جذبات سے کھیلتی ہیں جس پر عام آدمی کہتا ہے کہ میں جہاد نہیں کرسکتا تو کم سے کم چندہ تو دوں۔

اس کے ساتھ ساتھ ان تنظیموں کے خلاف ہمیشہ بیرون ممالک کا دباؤ ہوتا ہے۔ پاکستانی عوام کے جذبات ہمیشہ بھارت مخالف اور امریکہ مخالف بنائے جاتے ہیں۔ لہذا، ایسے میں ان ملکوں کا ان تنظیموں کے خلاف ہونا بھی ان تنظیموں کے حق میں جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کو حق کا نمائندہ سمجھ کر انہیں فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔

سبوخ سید کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک عرصے سے سعودی اور ایرانی لابی بھی موجود ہے اور ان لابیوں سے منسلک لوگوں کو فرقہ وارانہ جماعتوں میں شامل کیا جاتا ہے جہاں ان کی اگلی منزل جہادی تنظیمیں ہوتی ہیں، جہاں انہیں تمام مسائل کا حل طاقت کا حصول بتایا جاتا ہے۔

ریاستی اداروں کی مددگار ان تنظیموں کی وجہ سے پاکستان شدید مشکلات میں نظر آرہا ہے۔ پاکستان نے اس سلسلے میں قواعد میں تبدیلیاں کی ہیں اور تمام تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں کی وجہ سے پاکستان پر عالمی دباؤ آتا رہا۔ لہذا، اب ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ضروری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG