رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان: جام کمال وزیرِ اعلیٰ، قدوس بزنجو اسپیکر نامزد


'بی اے پی' کے مرکزی جنرل سیکرٹری منظور کاکڑ نے پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے فیصلوں کا اعلان جمعے کی شب کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

نامزد وزیرِ اعلیٰ کے بقول اصل ناراض وہ لوگ ہیں جن کے پاس پانی، بجلی اور اسپتال جیسی بنیادی سہولتیں نہیں اور جان کمال کے بقول وہ ان لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کریں گے۔

بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے صوبائی پارلیمانی گروپ نے پارٹی کے صدر جام کمال خان کو وزیرِ اعلیٰ اور سابق وزیرِ اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کو اسپیکر بلوچستان اسمبلی کے عہدوں کے لیے نامزد کردیا ہے۔

'بی اے پی' کے مرکزی جنرل سیکرٹری منظور کاکڑ نے پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے فیصلوں کا اعلان جمعے کی شب کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

منظور کاکڑ نے بتایا کہ صوبائی اسمبلی میں پاکستان تحریکِ انصاف کے پانچ، عوامی نیشنل پارٹی کے تین، ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے دو، دو ارکان کی حمایت کے بعد 'بی اے پی' کو 51 میں سے 30 سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔

پریس کانفرنس میں پارٹی کے نامزد وزیرِ اعلیٰ جام کمال خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وفاق سے بلوچستان کے حقوق حاصل کرنے اور وفاقی میزانیے میں صوبے کا بجٹ بڑھانے کے لیے تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان سے بات کی ہے جنہوں نے ان کے بقول اس بارے میں مثبت یقین دہانی کر ائی ہے۔

بلوچ عسکریت پسند تنظیموں سے مذاکرات کے بارے میں ایک سوال پر جام کمال نے کہا کہ ماضی میں اس حوالے سے کی جانے والی کو ششوں کے بہت مثبت نتائج برآمد ہوئے اور بہت سارے ایسے لوگ جو ناراض تھے یا پہاڑوں پر تھے انہوں نے ہتھیار ڈالے۔

لیکن ان کے بقول ان کے نزدیک اصل ناراض وہ لوگ ہیں جن کے پاس پانی، بجلی اور اسپتال جیسی بنیادی سہولتیں نہیں اور جان کمال کے بقول وہ ان لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کریں گے۔

نامزد وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ جو لوگ پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری پر یقین رکھتے ہیں اُن سے پاکستان کے آئین کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے بات چیت بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن ان کے بقول پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی سوچ رکھنے والوں سے مذاکرات کوئی معنی نہیں رکھتے۔

واضح رہے کہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں بلوچستان میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

گزشتہ ماہ بلوچستان اسمبلی کی 51 میں سے 50 نشستوں پر انتخاب ہوا تھا جن میں سے بلوچستان عوامی پارٹی کو 15، متحدہ مجلسِ عمل کو 9، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کو 6، پاکستان تحریکِ انصاف کو 4، عوامی نیشنل پارٹی کو 3، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کی 2، 2 جب کہ مسلم لیگ (ن)، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کو ایک، ایک نشست ملی تھی۔

صوبائی اسمبلی میں پانچ آزاد ارکان بھی منتخب ہوئے تھے جن میں سے چار 'بی اے پی' میں اور ایک 'پی ٹی آئی' میں شامل ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG