رسائی کے لنکس

logo-print

بی بی سی ڈیڈ: 'بچے کہاں ہیں؟'


برطانوی نشریاتی ادارے سکائی نیوز نے حال ہی میں ایک ٹویٹ جنوبی کوریا میں کرونا وائرس کے بعد کی صورتحال کے بارے میں کی تھی ۔ اس ٹویٹ میں دو ہزار سترہ میں 'بی بی سی ڈیڈ' کے نام سے مشہور ہونے والے پروفیسر رابرٹ کیلی اپنے گھر کی سٹڈی میں بیٹھے یہ کہ رہے تھے کہ جنوبی کوریا میں کرونا وائرس کے 160 نئے کیسز نظر آنے کے بعد لوگ اپنے معمولات زندگی بدلنے پر مجبور ہو جائیں گے مگر ٹویٹر صارفین مسلسل دو دن سے اس ٹویٹ کے جواب میں کچھ اور ہی سوال کر رہے ہیں۔

سب کا ایک ہی سوال ہے کہ ’’بچے کہاں ہیں۔‘‘

کوریائی خطے کے امور پر مہارت رکھنے والے امریکی تجزیہ کار پروفیسر رابرٹ کیلی ’’بی بی سی ڈیڈ‘‘ کے نام سے تب مشہور ہوئے تھے، جب بی بی سی کو ایک براہ راست انٹرویو کے دوران ان کے بچے ان کی اسٹڈی میں کھیلتے کودتے داخل ہو گئے تھے۔ اس واقعے کو 2017 کے دوران ٹی وی کا سب سے بہترین لمحہ قرار دیا گیا تھا۔

سکاٹ گیلووے نے لکھا کہ "بچے کہاں ہیں؟’’

ہانا پراکٹر نے لکھا کہ آپ جو فرما رہے ہیں وہ تو ٹھیک ہے مگر بچے کہاں ہیں۔ ہم سب تو مسلسل آپ کے بند دروازے کو دیکھ رہے ہیں جہاں آپ نے سارا سسپنس چھپا رکھا ہے۔

نامراد نامی ایک اکاؤنٹ نے لکھا کہ پروفیسر ہمیں اس سے مطلب ہے کہ اس بارے میں آپ کے بچوں کی کیا رائے ہے؟

ایک اور صارف نے کہا کہ یہ تو درست ہے کہ رابرٹ کیلی کے پاس بہت سی ڈگریاں ہیں مگر پوری دنیا ان کی بیٹی میرین کو دیکھنا چاہتی ہے۔

XS
SM
MD
LG