رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا کا علاج کلوروکین سے نہ کیا جائے، اس کے خطرناک سائیڈ ایفکٹس ہیں: ایف ڈی اے


امریکہ کے خوراک اور ادویات سے متعلق ادارے نے ڈاکٹروں کو انتباہ کیا ہے کہ ملیریا کی روک تھام کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات سے کرونا وائرس کا علاج کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

صدر ٹرمپ متعدد بار میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ کہہ چکے ہیں کہ ملیریا کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات، مثلاً کلوروکین اور اس طرح کی دوسری ادویات کو کرونا وائرس کے خلاف استعمال کرنا چاہیے۔

کئی ملکوں میں ڈاکٹر کلوروکین جیسی ادویات کرونا کے مریضوں کو دے رہے ہیں۔

تاہم، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ادویات کے ضرر رساں سائیڈ ایفکٹس کافی ہیں۔ اور اگر انہیں معالج کی نگرانی کے بغیر استعمال کیا جائے تو فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہو سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، بعض واقعات میں انسداد ملیریا کی دوائیں کرونا کے علاج میں فائدہ مند رہی ہیں۔ لیکن، زیادہ تر واقعات میں ان کے استعمال سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اور بعض صورتوں میں پیچیدگیاں بھی پیدا ہوئیں۔

فی الوقت کرونا کی کوئی مستند دوا موجود نہیں ہے اور طبی ماہرین مختلف ادویات کو ملا کر اس کا علاج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کرونا وائرس کی ویکسین کے لیے بھی مختلف ملکوں میں ماہرین کام کر رہے ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس پر ایک سال سے زیادہ لگ سکتا ہے، جب کہ اس مہلک وبا کا دائرہ مسلسل پھیل رہا ہے اور دنیا کے زیادہ تر علاقے لاک ڈاؤن کی کیفیت میں ہیں۔

جمعے کے روز فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے عہدے داروں نے خبردار کیا کہ کئی ایسی رپورٹس ملی ہیں کہ کرونا وائرس کے جن مریضوں کو ہائیڈو آکسی کلوروکین اور اسی قسم کی دوائیں دی گئی تھیں، ان کے انتہائی سنگین سائیڈ ایفکٹس سامنے آئے اور بعض صورتوں میں مریضوں کو جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔

کلوروکین سے تعلق رکھنے والی ادویات ایک خاص قسم کی سوزش کے علاج کے لیے بھی منظور شدہ ہیں، لیکن ان کے نتیجے میں کئی طرح کے سائیڈ ایفکٹس ظاہر ہو سکتے ہیں جن میں سب سے خطرناک دل کی دھڑکن کا بے ترتیب ہونا بھی شامل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG