رسائی کے لنکس

logo-print

لبنان دھماکہ: ایک ماہ گزرنے کے باوجود زندگی معمول پر نہ آ سکی


فائل فوٹو

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے خوفناک دھماکے کے ایک ماہ گزر جانے کے بعد بھی متاثرین حکومت اور عالمی امداد کے منتظر ہیں۔

دھماکے میں تباہ ہونے والے گھروں کے بیشتر مکین وسائل نہ ہونے کے سبب اپنے گھروں کی مرمت کرنے سے قاصر ہیں۔

خیال رہے کہ چار اگست کو بیروت کی بندرگاہ پر ذخیرہ شدہ لگ بھگ تین ہزار ٹن ایمونیم نائٹریٹ کی وجہ سے ہونے والے دھماکے میں 190 سے زائد ہلاکتیں جب کہ ہزاروں افراد زخمی ہو گئے تھے۔

ایمونیم نائٹریٹ کو چھ ماہ پہلے بندر گاہ پر ذخیرہ کیا گیا تھا۔ دھماکے کو ایک ماہ مکمل ہو جانے کے باوجود بیروت میں تباہی اور بربادی کے آثار نظر آتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق دھماکے میں لگ بھگ دو لاکھ رہائشی یونٹس اور 40 ہزار عمارتیں متاثر ہوئی تھیں جن میں سے تین ہزار عمارتیں دھماکے کے بعد رہائش کے قابل نہیں رہیں۔

ایک ماہ بعد بھی بیروت کی گلیوں اور بازاروں میں تباہ شدہ عمارتوں کے ڈھانچے اور جابجا ملبہ بکھرا ہوا ہے۔ بندرگاہ کے قریب موجود بعض عمارتیں تو کھنڈر بن چکی ہیں۔

بیروت کی گلیوں میں اب بھی بہت سے ایسے شہری گزرتے دکھائی دیتے ہیں جن میں سے کسی کی آنکھ پر زخم کے آثار ہیں اور کئی افراد نے بازو پر پٹی باندھ رکھی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اب اُن کی جمع پونچی بھی ختم ہوتی جا رہی ہے جب کہ حکومت کی طرف سے اب بھی اُن کی داد رسی نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ دھماکے سے قبل ہی لبنان کی معاشی صورتِ حال دگرگوں تھی اور شہری مبینہ کرپشن اور وسائل کی عدم فراہمی کی وجہ سے حکومت سے نالاں تھے۔

وسائل کی کمی کی وجہ سے کئی شہری اپنے گھروں کی مرمت کرانے سے قاصر ہیں جب کہ بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کی وجہ سے بہت سے افراد تک امداد بھی نہیں پہنچ سکی۔

عالمی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر سردیوں سے قبل بیروت کے شہریوں کی دوبارہ آباد کاری اور گھروں کی مرمت کا عمل مکمل نہ ہوا تو کوئی بڑا المیہ جنم لے سکتا ہے۔

دھماکے کے بعد لوگ مالی وسائل نہ ہونے کے باعث اپنے تباہ شدہ گھروں کی مرمت شروع نہیں کراسکے۔ (فائل فوٹو)
دھماکے کے بعد لوگ مالی وسائل نہ ہونے کے باعث اپنے تباہ شدہ گھروں کی مرمت شروع نہیں کراسکے۔ (فائل فوٹو)

اقوام متحدہ کی طرف سے متاثرین کی مدد کے لیے 34 کروڑ ڈالر کی اپیل کی گئی تھی تاہم اس میں سے اب تک صرف 16 فی صد سے زائد رقم جمع ہو سکی ہے۔

دھماکے کی وجہ سے لبنان کی مقامی کرنسی کی قدر مزید کم ہو گئی ہے جب کہ بینکوں نے صورتِ حال کی سنگینی کے پیشِ نظر ڈالر اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں۔

ملک میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ناروے کے تنظیم ‘نارویجین رفیوجی کونسل’ کی عہدے دار الینا ڈیکومیتس کے مطابق تباہ شدہ گھروں کی تعمیر کے لیے آٹھ کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم درکار ہے، لیکن اب تک صرف لاکھ ڈالر ہی جمع ہو سکے ہیں۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ بیروت میں سردیوں کا آغاز اکتوبر سے ہو جاتا ہے اور ہزاروں گھروں کی تعمیر تب تک ممکن نہیں ہے۔

دھماکے میں 190 سے زائد ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے تھے۔ (فائل فوٹو)
دھماکے میں 190 سے زائد ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے تھے۔ (فائل فوٹو)

یہ تنظیم اس دھماکے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے بیروت کے مضافاتی علاقوں کارنتینا اور مار میخائل میں 12 ہزار سے زائد متاثرہ افراد کے لیے رہائشی سہولیات کے لیے کوشاں ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سردیوں میں لبنان کو ویسے ہی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لبنان میں 10 لاکھ سے زائد شامی مہاجرین بھی موجود ہیں جنہیں سردیوں میں رہائشی سہولیات فراہم کرنا بڑا چیلنج ہوتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG