رسائی کے لنکس

logo-print

لبنان کے لیے امریکہ کی ہنگامی امداد


لوگ دھماکے میں منہدم ہونے والے ایک مکان کے ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کر رہے ہیں۔7 اگست 2020

بیروت میں اس ہفتے کے تباہ کن دھماکے کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر لبنان کو طبی امداد، خوراک اور پانی کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔

یہ بات امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ سی او برائن نے بتائی۔

حکام کے مطابق اس ابتدائی امداد کے علاوہ امریکہ لبنانی حکام کے ساتھ مل کر صحت اور انسانی ہمدردی کے تحت مزید امداد کا تعین کرے گا۔

امریکہ کا بین الاقوامی ترقی کا ادارہ یو ایس ایڈ لبنان میں تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے ایک ٹیم بھیج رہا ہے جو امدادی کاموں میں تعاون کرے گی۔

وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ابتدائی طور پرایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ اس المناک حادثے کے بعد لبنانی عوام کی بحالی کی کوششوں میں ان کی مدد کرتا رہے گا۔

پومپیو کے مطابق امریکہ اس مطالبے میں عالمی برادری کے ساتھ یک زبان ہے کہ اس واقعہ کی وجہ کی مکمل اور شفاف تفتیش کی جائے۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کے کارکنوں نے جمعہ کو ملبے میں زندہ بچ جانے والے افراد کی تلاش جاری رکھی۔

فرانسیسی اور روسی ٹیموں نے بھی تربیت یافتہ کتوں کی مدد سے زندہ بچنے والے افراد کی تلاش کی سرگرمیوں میں مدد کی۔

لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ اس بڑے دھماکے کی وجہ 2755 ٹن ایمونیم نائٹریٹ تھا، جو چھ سال سے وہاں ذخیرہ کیا گیا تھا۔ اس دھماکے میں تقریباً ڈیڑھ سو افراد ہلاک اور پانچ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں ، جب کہ بے گھر ہونے والوں کی تعداد کا تخمینہ تین لاکھ ہے۔

دھماکے کے زخمیوں میں لبنان میں ہالینڈ کے سفیر کی اہلیہ ہیڈوگ والٹمانز مولیئر بھی شامل تھیں جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔

لبنانی حکام کو اندیشہ ہے کہ اس واقعہ سے ملک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جائے گا کیونکہ اب اسپتالوں میں بڑی تعداد میں دھماکے کے زخمی زیرعلاج ہیں اور بے گھر ہونے والے اپنے لیے پناہ گاہیں تلاش کر رہے ہیں۔

لبنانی حکام کو اندیشہ ہے کہ تباہ کن دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ان تباہ کاریوں کی وجہ سے ملک کو تقریباً 15 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG