رسائی کے لنکس

logo-print

بیلاروس میں مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی گرفتاری پر احتجاج


پولیس نے کئی میڈیا اداروں کے صحافیوں کو حراست میں لیا تھا اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ بغیر اجازت کیے جانے والے احتجاج میں شریک تھے۔

بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں اس پولیس اسٹیشن کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے احتجاج کیا جہاں ان صحافیوں کو گرفتار کر کے رکھا گیا ہے جو ملک میں متنازعہ انتخابی نتائج اور صدر کے خلاف مظاہروں کی کوریج کر رہے تھے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق پولیس نے منگل کو کئی میڈیا اداروں کے صحافیوں کو حراست میں لیا تھا اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ بغیر اجازت کیے جانے والے احتجاج میں شریک تھے۔

رپورٹس کے مطابق اگر زیرِ حراست صحافیوں پر پولیس کے عائد الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ان پر جرمانہ عائد ہونے کے ساتھ ساتھ 15 دن قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

بیلاروس کی مشہور ویب سائٹ 'ٹٹ ڈاٹ بائی' سے وابستہ صحافی اولگا لویکو کا کہنا تھا کہ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلافِ قانون اقدامات دیکھ رہے ہیں جن کا مقصد صحافیوں کو خاموش کروانا ہے۔

بدھ کو اولگا لیکو کے ساتھ ان کے ادارے میں کام کرنے والے فوٹو گرافر وادیم زمیروکی کو بھی پولیس نے حراست میں لیا تھا۔

'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق وادیم زمیروکی کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے ان کو حراست میں لینے کے بعد انہیں ایگ گاڑی میں ڈالا، ان پر تشدد کیا اور پھر ان کا شناختی کارڈ اور ادارے کا کارڈ دیکھا۔

خیال رہے کہ حالیہ صدارتی انتخابات کے نتائج کے بعد سے بیلاروس میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ متنازعہ نتائج کے تحت صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے 80 فی صد ووٹ حاصل کیے۔ حکومت کے خلاف جاری احتجاج پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ لوکاشینکو کی حکومت نے کئی صحافیوں کے اجازت نامے منسوخ کیے ہیں۔ جب کہ کچھ غیر ملکی صحافیوں کو ملک بدر بھی کیا ہے۔

ماسکو سے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے لیے کام کرنے والے دو صحافیوں کو گزشتہ ہفتے واپس بیلاروس بھیجا گیا تھا۔

امریکہ اور یورپی یونین کے حکام نے بیلاروس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو نشانہ بنانے کی شدید ترین مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ کہ منگل کو احتجاج کے دوران سیکڑوں طلبہ نے منسک میں جلوس نکالا۔ اس دوران وہ صدر لوکاشینکو کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یہ انتخابی نتائج کے بعد مسلسل چوتھا ہفتہ ہے جس میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

بیلاروس کی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ منگل کو ملک بھر میں بغیر اجازت ہونے والے احتجاج میں شریک 128 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان گرفتار افراد میں سے 95 کو دارالحکومت منسک میں حراست میں لیا گیا۔

وزارتِ داخلہ کے بیان کے مطابق 39 افراد بدھ کو بھی زیرِ حراست تھے کیوں کہ ان کے حوالے سے کیسز کی عدالتی سماعت نہیں ہو سکی تھی۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں پر پابندی عائد کرنے کے لیے صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

دوسری جانب لوکاشینکو پر مغربی ممالک کا دباؤ بڑھنے کے بعد انہوں نے تیزی سے روس سے تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔ روس کے صدر ولادی میر پوٹن گزشتہ ہفتے کہہ چکے ہیں کہ اگر مظاہرے پرتشدد احتجاج میں تبدیل ہوتے ہیں تو ماسکو لوکاشینکو کی درخواست پر بیلاروس اپنی پولیس بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم ابھی اس کی ضرورت نہیں ہے۔

بدھ کو بیلاروس کے وزیرِ خارجہ نے بھی ماسکو کا دورہ کیا اور بیلاروس کی حکومت کی حمایت پر ماسکو کا شکریہ ادا کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG