رسائی کے لنکس

بیلاروس: متنازع انتخابات کے خلاف احتجاجی مظاہرے، صدر کے استعفے کا مطالبہ


پولیس نے سیکڑوں مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اب تک سات افراد کو حراست میں لیا ہے۔

یورپی ملک بیلاروس کے عوام نے پابندی کے باوجود دارالحکومت منسک میں متنازع انتخابات کے خلاف ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے رواں ماہ ہونے والے انتخابات میں مبینہ طور پر دھاندلی کے ذریعے دوبارہ منتخب ہونے والے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔

احتجاج کے 15ویں روز مظاہرین نے طاقت کے استعمال سے احتجاج کچلنے کی حکومتی کوشش کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔

مظاہرین نے حکومت مخالف اجتماع کو 'نئے بیلاروس' کے لیے مارچ کا نام دیا ہے۔

دو ہفتوں سے جاری مظاہروں میں اب تک دو افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ممکنہ طور پر کشیدگی کو دیکھتے ہوئے حکومت نے دارالحکومت میں فوج کی بڑی تعداد کو تعینات کر دیا ہے۔

نو اگست کو ہونے والے انتخابات میں الیگزینڈر لوکاشینکو کو فاتح قرار دیا گیا تھا جو 1996 سے مسلسل ملک کے صدارت کے منصب پر فائز ہیں۔ لیکن حزبِ اختلاف نے اس نتیجے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور سراپا احتجاج عوام سڑکوں پر آ گئے۔

اب تک سات ہزار افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جب کہ پولیس نے سیکڑوں مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا ہے۔

امریکہ اور یورپی یونین نے متنازع انتخاب پر تنقید کی ہے اور مظاہرین کے خلاف پرتشدد رویے کی مذمت بھی کی ہے۔

اتوار کو 20 سے زائد ملکوں میں بیلاروس کے عوام کی حمایت میں انسانی زنجیریں بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ زنجیر بیلاروس کی سرحد پر آ کر ختم ہو گی۔


صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے مقابلے میں حزب اختلاف کی رہنما سویتلانا تیخانوفسکایا نے یہ الیکشن لڑا۔ تاہم انہوں نے ملک چھوڑ کر ہمسایہ ملک لیتھونیا میں پناہ لے رکھی ہے۔

سویتلانا نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اس انتخابی مقابلے میں 70 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے۔

انہوں نے بیلاروس کے عوام سے کہا ہے کہ وہ صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی باتوں میں نہ آئیں اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG