رسائی کے لنکس

logo-print

بیلاروس: صدارتی انتخابات کے بعد ہنگامے، خاتون اُمیدوار نے ملک چھوڑ دیا


سویٹلانہ ٹیچانووسکایا (فائل فوٹو)

بیلاروس میں اتوار کے روز ہونے والے متنازع انتخابات میں خاتون صدارتی اُمیدوار سویٹلانہ ٹیچانووسکایا حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ملک چھوڑ کر ہمسائیہ ملک لیتھوینیا چلی گئی ہیں۔

سویٹلانہ جنہوں نے 1994 سے ملک کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے خلاف صدارتی الیکشن لڑا تھا، ابتدائی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جس کے بعد ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔

تاہم منگل کو اپنے حامیوں کے نام پیغام میں اُنہوں نے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کر دی۔

سینتیس سالہ سابق انگلش ٹیچر سویٹلانہ ٹیچانووسکایا نے رواں سال مئی میں اپنے بلاگر شوہر کی حراست کے بعد عملی سیاست میں آنے کا اعلان کیا تھا۔

اُن کے شوہر صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی پالیسیوں کے بڑے ناقدین میں شمار ہوتے تھے۔

اتوار کو ہونے والے انتخابات میں صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کو 80 فی صد ووٹ ملے تھے جب کہ سویٹلانہ صرف 10 فی صد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھیں۔

اپنے ویڈیو بیان میں اُنہوں نے اپنے حامیوں سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے ملک چھوڑ کر گئی ہیں۔

بیلارس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو (فائل فوٹو)
بیلارس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو (فائل فوٹو)

اُنہوں نے کہا کہ "بہت سے لوگ اُن کے فیصلے کی مذمت کریں گے اور شاید ان سے نفرت بھی کرنے لگیں۔ لیکن بہت سے لوگ میری مجبوری سمجھ سکیں گے۔"

اطلاعات کے مطابق بیلاروس کی پولیس نے منگل کو دو ہزار مظاہرین کو حراست میں لے لیا تھا۔ پیر کو تین ہزار لوگوں کو احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ پرتشدد مظاہروں کے دوران درجنوں پولیس اہلکار بھی زخمی ہو گئے تھے۔

ایک دوسرے ویڈیو پیغام میں سویٹلانہ نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے پولیس کے ساتھ تصادم سے گریز کریں۔

سویٹلانہ کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ مجبوری کے حالات میں کیا۔

اُن کی انتخابی مہم کی اہل کار ماریہ کولیسنیکووا نے خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کو بتایا کہ "جب آب کا پورا خاندان اور آپ کے قریبی ساتھیوں کو یرغمال بنا لیا جائے تو پھر مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔"

صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے اپوزیشن کے احتجاج کو غیر ملکی سازش قرار دیتے ہوئے بلا جواز قرار دیا تھا۔

الیگزینڈر لوکاشینکو 1994 کے بعد سے ملک میں ہونے والے تمام انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں۔ لیکن اپوزیشن رہنما ان پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG