رسائی کے لنکس

بن غازی حملہ کیس: مشتبہ شخص کو حراست میں رکھنے کا حکم


اس گاڑی میں مصطفیٰ الامام کو واشنگٹن میں امریکہ کی ڈسٹرکٹ کورٹ سے باہر لے جایا جا رہا ہے۔

لیبیا میں 2012ء میں امریکی قونصل خانے پر ہونے والے حملے میں مبینہ طور پر ملوث عسکریت پسند کو پہلی بار واشنگٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت نے آئندہ ابتدائی پیشی تک اسے حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

لیبیا کے شہری مصطفیٰ الامام پر "ایک وفاقی تنصیب پر حملے کر کے ایک شخص کو ہلاک کرنے" اور دہشت گردوں کو مادی معاونت فراہم کرنے کا الزام ہے جس کی وجہ سے یہ ہلاکت ہوئی تھی۔

ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کے وفاقی استغاثہ کے دفتر کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ امریکہ کے ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی عدالت کی جج ڈیبرا رابنسن نے حکم دیا کہ مصطفیٰ کو جمعرا ت کو ہونے والی ابتدائی پیشی سے پہلے حراست میں رکھا جائے۔

بیان میں مزید بتایا کہا گیا کہ 46 سالہ مصطفیٰ جمعہ کی صبح واشنگٹن پہنچا۔

ان پر عائد کیے گئے الزامات کا تعلق بن غازی میں واقع امریکہ کے سفارتی کمپاونڈ پر 11 ستمر 2012ء کو شدت پسندوں کے ایک حملے سے ہے جس میں امریکی سفیر کرسٹوفر اسٹیون اور تین دیگر امریکی شہری ہلاک ہوئے تھے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ مصفطفیٰ الامام کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے طرف سے جاری بیان میں صدر نے کہا کہ "ہماری یاداشت بہت تیز اور رسائی دور تک ہے اور ہم اس وقت تک اپنی کوششیں نہیں ختم کریں گے جب تک بن غازی پر ہونے والے گھِناؤنے حملوں کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لاتے۔"

اس حملے کی کانگرس نے تحقیقات کے لیے کئی بار سماعت کی کہ کیا سابق وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اور دیگر اعلیٰ امریکی عہدیدارو ں نے ممکنہ تشدد کے پیش نظر قونصل خانے کی سیکورٹی کو بہتر کرنے کے انتباہ کو نظر انداز کیا۔

تاہم ان سماعتوں اور ریپبلکنز کی قیادت میں ہونے والی تحقیقات میں کلنٹن یا محکمہ خارجہ کی غلطی یا غفلت سے متعلق کوئی شواہد نہیں ملے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی عہدیداروں نے نام ظاہر نا کرنے کے شرط پر بتایا کہ مصطفیٰ الامام کو حال ہی میں امریکی کی اسپیشل فورسز نے لیبیا سے پکڑنے کے بعد اسے امریکہ منتقل کیا تھا۔

امریکہ کے پراسیکیوٹرز نے گزشتہ ہفتے امریکہ کے قونصل خانے پر حملے کے سرغنہ احمد ابو خطالہ کے خلاف مقدمے کا آغاز کیا۔ یہ مقدمہ بھی واشنگنٹن کی اسی عدالت میں زیر سماعت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG