رسائی کے لنکس

فوجی انخلا کا متبادل موجود نہ ہونا بائیڈن انتظامیہ کی دوسری ناکامی ہے: سینیٹر بَر


کابل ایئرپورٹ سے غیرملکیوں کی واپسی امریکی فوج کی نگرانی میں جاری ہے، جب کہ بہت سے لوگ ایئرپورٹ پر پھنسے ہوئے ہیں۔

امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے ری پبلیکن پارٹی کے سینیٹر اور انٹیلی جنس کے حوالے سے امریکی سینیٹ کی سیلیکٹ کمیٹی کے سابق چیرمین رچرڈ بَر نے کہا ہے کہ افغانستان سے فوجی انخلا کا صدر بائیڈن کا فیصلہ درست نہیں تھا، اور یہ کہ انخلا کا کوئی متبادل منصوبہ بھی تیار نہیں کیا گیا تھا۔

انہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے افغانستان کی صورتحال کے حوالے کئے گئے خطاب پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ مجھے توقع تھی کہ کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے جو بائیڈن امریکی کانگریس اور عوام کے سامنے آج کوئی نیا منصوبہ پیش کریں گے۔ لیکن، 'ایسا نہیں کیا گیا'۔

سینیٹر بَر نے الزام لگایا کہ افغانستان کے معاملے پر بائیڈن انتظامیہ کی مبینہ لاپرواہی کی وجہ سے، ان کے الفاظ میں، تباہ کن ناکامی دیکھنا پڑی۔

بقول ان کے،''ساری صورت حال کے صدر بائیڈن خود ذمہ دار ہیں، جس صورت حال سے بچنے کے لیے انہیں ٹھوس اقدام کرنا تھا وہ، وہ نہیں کر پائے''۔

سینیٹر برَ نے کہا کہ انخلا کا فیصلہ کرتے وقت ممکنہ نتائج کو دھیان میں رکھنا لازم تھا، جس کے لیے علاقائی اور عالمی حقائق کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔

سینیٹر بر واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کر رہے ہیں، فائل فوٹو
سینیٹر بر واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کر رہے ہیں، فائل فوٹو

ادھر امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کی پریس بریفنگ میں، ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ محکمہ دفاع کے وہ اہل کار جو افغانستان میں فرائض انجام دے چکے ہیں، وہ افغانستان کی موجودہ صورت حال پر ناخوش ہیں۔

ایک افغان صحافی کے سوال پر کہ صدر اشرف غنی کہاں ہیں اور آیا اپنی ذمہ داری نہ نبھا کر انہوں نے افغان عوام کے ساتھ انصاف کیا ہے، ترجمان نے کہا کہ اس معاملے پر وہ کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ تمام افغان مترجموں کے انخلا کا پابند ہے، جنہوں نے 20 سالہ عرصے کے دوران امریکی افواج کے ساتھ کام کیا۔

ترجمان نے کہا کہ افغان خواتین کی پیشہ وارانہ استعداد بڑھانے اور بچیوں کی تعلیم کے سلسلے میں کافی پیش رفت حاصل کی گئی، جسے ہرگز ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

خصوصی طور پر افغان خواتین کے بارے میں جان کربی نے کہا کہ سیاسی، معاشی اور سماجی میدان میں ان کی کامیابیاں مثالی رہی ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ جو اضافی فوجی کابل روانہ کیے گئے ہیں، ان کا اصل مشن امریکی شہریوں اور اتحادیوں کے لیے کابل کے ہوائی اڈے کو محفوظ بنانا ہے، اور یہی ہماری اولین ترجیح ہے۔

اس سوال پر کہ افغان فوج نے طالبان کی پیش قدمی روکنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا، ترجمان نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے تربیت یافتہ افغان فوج گزشتہ سال سے اپنی ملکی ذمہ داریاں سنبھال رہی تھی، جب کہ امریکی افواج کا کام ان کی تربیت، رہنمائی اور اسلحہ فراہم کرنا تھا، جس میں کوئی کوتاہی نہیں کی گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG