رسائی کے لنکس

طالبان کابل میں، کس رہنما کو مستقبل میں کیا ذمے داری مل سکتی ہے؟


ملا عبد الغنی برادر کو افغانستان میں طالبان کی حکومت میں اہم عہدہ ملنے کا امکان ہے۔

امریکہ کی فوج کے انخلا کے بعد طالبان نے افغانستان پر لگ بھگ 20 برس بعد ایک بار پھر اپنا تسلط بحال کیا ہے۔ البتہ ان کی ممکنہ حکومت کے نظام اور اس میں شامل شخصیات کے متعلق ابھی تک کوئی مصدقہ اعلان نہیں کیا گیا۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی اتوار کو صدارت سے مستعفی ہو کر تاجکستان پہنچ چکے ہیں۔ جب کہ سابق افغان صدر حامد کرزئی، افغان مصالحت کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ اور طالبان کے نائب امیر عبد الغنی برادر اور دیگر طالبان رہنماؤں کے ساتھ مستقبل کی حکومت کے بارے میں صلاح مشورے کر رہے ہیں۔

اشرف غنی کے گزشتہ روز مستعفی ہونے سے قبل بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں سابق وزیرِ داخلہ اور سابق فوجی افسر علی احمد جلالی کی قیادت میں چھ ماہ کے لیے مخلوط عبوری حکومت کے قیام کے بارے میں اطلاعات سامنے آئیں تھی۔

البتہ طالبان نے علی احمد جلالی کی سربراہی میں مخلوط حکومت کی تجویز مبینہ طور پر مسترد کر دی ہے۔ اور اب یہ رپورٹس سامنے آ رہی ہیں کہ طالبان رہنماؤں پر مشتمل حکومت بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق طالبان افغانستان کے تمام 34 صوبوں پر قبضہ کر چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی سیاسی قیادت پاکستان کے شہر کوئٹہ اور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مقیم ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ ان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ افغانستان ہی میں موجود ہیں اور کابل کی سیکیورٹی کے انتظامات مکمل ہونے کے بعد ملا ہیبت اللہ اخونزادہ دارالحکومت میں داخل ہوں گے۔

کلیدی حیثیت کے رہنما

طالبان کی قیادت نے اب تک کسی بھی رہنما کی سربراہی میں حکومت کے قیام کا اعلان نہیں کیا۔ اطلا عات کے مطابق اتوار کو ملا عبدالغنی برادر قطر سے خصوصی پرواز سے سابق صدر حامد کرزئی اور عبد اللہ عبد اللہ کے ہمراہ کابل پہنچے ہیں۔

عبد الغنی برادر کو افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتِ حال میں کلیدی حیثیت حاصل ہے اور مبصرین کے مطابق توقع کی جا رہی ہے کہ انہیں حکومت میں اہم مقام حاصل ہو گا۔

دوسری جانب توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ صرف مذہبی رہنمائی تک محدود رہیں گے۔

کوئٹہ شوریٰ

طالبان کی تحریک کے آغاز کے حوالے سے مختلف اطلاعات آتی رہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز افغانستان کے صوبے قندھار میں ہوا۔ بعض ماہرین کا دعوی ہے کہ اس کا ظہور اکتوبر 1994 میں بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن کے قریب پاکستان اور افغانستان کے درمیان مصروف ترین گزرگاہ اسپن بولدک سے ہوا تھا۔ اس کے بعد سے کوئٹہ شوریٰ کا نام بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی خبروں اور تبصروں کا حصہ رہا ہے۔

سال 2001 میں جب افغانستان میں طالبان حکومت کا خاتمہ ہوا تو ذرائع ابلاغ میں کوئٹہ شوریٰ کی اہمیت برقرار رہی۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئٹہ شہر سےقریب قصبے کچلاک کو طالبان کی اہم رہائشی بستی کی حیثیت حاصل ہے۔ زیادہ تر طالبان رہنما مبینہ طور پر اسی بستی میں مقیم رہے ہیں۔

پاکستان اس سلسلے میں افغان طالبان کی سرکاری پشت پناہی کے تمام الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ابتدا ہی سے کوئٹہ شوریٰ کے اراکین کی تعداد بدلتی رہی ہے۔ اس وقت بتایا جاتا ہے کہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی سربراہی میں شوریٰ کے 20 ارکان ہیں۔

سال 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد 2003 میں ملا عمر کی سربراہی میں کوئٹہ شوریٰ 33 اراکین پر مشتمل تھی۔ جب کہ 2006 میں اس میں 13 مشیروں اور نائبین کا اضافہ کیا گیا تھا۔

ملا ہیبت اللہ کے علاوہ طالبان کے نائب امیر ملا عبد الغنی برادر، نائب امیر سراج الدین حقانی، نائب امیر ملا محمد یعقوب، ملا عبد القیوم ذاکر ، ملا عبد الکبیر، ملا عبد الرؤف، امیر خان متقی اور عبدالرزاق کوئٹہ شوریٰ کے اراکین بتائے جاتے ہیں۔

دوحہ اور پشاور میں مقیم رہنما

کوئٹہ شوریٰ کے علاوہ طالبان کے، جو خود کو امارتِ اسلامی افغانستان کے نام سے پکارتے ہیں، وہ رہنما جو خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مقیم ہیں زیادہ مقبول نہیں ہیں۔

افغانستان کے پاکستان سے ملحقہ مشرقی اور شمال مشرقی علاقوں میں مسلح مزاحمت کی تمام تر قیادت مبینہ طور پر پشاور شوریٰ ہی کے ذریعے کی جاتی تھی۔

اسی طرح 2013 سے افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات میں قطر میں مقیم افغان قیادت کا اہم کردار رہا ہے۔ قطر کی حکومت نے دوحہ میں افغان طالبان کو نہ صرف سیاسی دفتر کھولنے کی اجازت دی بلکہ ان کے قیام کو بھی ممکن بنایا۔

قطر میں مقیم طالبان رہنماؤں میں ملا عبد الغنی برادر کے علاوہ ملا عباس استنکزئی اور سہیل شاہین شامل ہیں۔

آئندہ حکومت کی سربراہی کس کو ملنے کا امکان ہے؟

افغانستان میں قیامِ امن اور روس کے انخلا کے بعد جنگ سے تباہ حال لوگوں کو خود ساختہ جنرلوں اور جنگی کمانڈروں کے مظالم سے نجات کے نعرے پر ملا عمر نے 1994 میں دو درجن سے زائد ساتھیوں کے ساتھ جدوجہد کا آغاز کیا۔

اس وقت افغانستان میں ان کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا گیا تھا اور ایک ماہ سے بھی کم وقت میں طالبان کی تعداد چند درجن سے بڑھ کر 15 ہزار تک پہنچ گئی۔

طالبان کے ساتھ ساتھ اس وقت کی کئی جہادی تنظیموں سے تعلق رکھنے والوں نے بھی طالبان کا ساتھ دیا تھا۔ اسی وجہ سے طالبان نے چند ماہ میں جنوب اور جنوب مشرقی افغانستان کے زیادہ تر حصوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

امریکہ میں گیارہ ستمبر 2001 کے دہشت گردی کے حملوں کے بعد اتحادی افواج کے حملے سے افغانستان میں طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔

اس وقت بہت سے سرکردہ رہنما طالبان سے الگ ہو گئے تھے اور سابق صدر حامد کرزئی کے قومی مصالحتی اور سیاسی عمل کی حمایت میں آگے آئے تھے۔ ان میں عبد الحکیم مجاہد، مولوی وکیل احمد متوکل اور ملا ارسلا رحمانی سر فہرست تھے۔

طالبان کے بہت سے سرکردہ اور بانی رہنما اب دنیا میں نہیں ہیں۔ اسی طرح ملا عمر کی زندگی ہی میں ملا داد اللہ نے بغاوت کرکے علیحدہ گروہ بنا لیا تھا جس نے امریکہ اور اتحادی افواج کے خلاف مزاحمت کا آغاز کیا تھا۔

ملا داد اللہ 2007 میں مبینہ طور پر امریکہ کے ڈرون حملے کا شکار ہوئے تھے ۔

گروہ بندی مسئلہ بن سکتی ہے؟

ملا عمر کی 2013 میں موت کے بعد ان کے بیٹے ملا یعقوب نے بھی علمِ بغاوت بلند کیا تھا۔ جب کہ طالبان کے بانی رہنماؤں میں شامل ملا عبد القیوم ذاکر بھی کوئٹہ شوریٰ کے فیصلوں کے خلاف الگ ہوگئے تھے ۔

مئی 2016 میں جب ملا ہیبت اللہ اخونزادہ طالبان کے سربراہ بنے تو بظاہر یہ اختلافات ختم ہو گئے تھے البتہ اب بھی اس تحریک کی صفوں میں موجود رہنما اپنے اپنے گروہ رکھتے ہیں۔

ان گروہ بندیوں کے ساتھ اگرچہ طالبان کابل پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ البتہ مبصرین کے مطابق قیادت یا انتظامی عہدوں پر تقرریاں طالبان کے لیے آسان نہیں ہو گا۔

برطانیہ میں مقیم افغانستان سے تعلق رکھنے والے صحافی سمیع یوسف زئی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ خود کسی بھی سرکاری عہدے کے خواہش مند دکھائی نہیں دیتے۔

ان کے بقول امکان ہے کہ وہ ملا عمر کی طرح قندھار ہی سے امیر المومنین کی حیثیت میں طالبان کی حکومت کی نگرانی کریں گے۔

’ملا عبد الغنی برادر کو صدر یا وزیرِ اعظم کا عہدہ دیا جا سکتا ہے‘

سمیع یوسف زئی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے پر ملا عبد الغنی برادر کو صدر یا وزیرِ اعظم کا عہدہ دیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول ملا عبد الغنی برادر اسی قسم کے اہم عہدے کے خواہش مند بھی دکھائی دیتے ہیں۔

البتہ کابل میں بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں مختصر عرصے کے لیے تعلیم حاصل کرنے والے طالبان تحریک میں شامل ملا عباس استنکزئی کو بھی کسی اہم انتظامی عہدے کے لیے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

واضح رہے کہ ملا عبد الغنی برادر اور شیر محمد عباس استنکزئی امریکہ سے مذاکرات کرنے والے طالبان کے رہنما ہیں۔ بعد ازاں فروری 2020 میں امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اور ملا عبد الغنی برادر نے امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

طالبان میں شامل حقانی نیٹ ورک کا کردار عسکری کارروائیوں میں اہم رہا ہے۔ اس وقت حقانی نیٹ ورک کی قیادت سراج الدین حقانی کر رہے ہیں جو اس نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی کے بیٹے ہیں۔ سراج الدین حقانی طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوند کے نائب ہیں۔

اسی طرح طالبان کے بانی ملا محمد عمر کے بڑے بیٹے ملا محمد یعقوب بھی نائب امیر ہیں۔ بعض مبصرین ان دونوں کو بھی نائب صدور یا نائب وزیرِ اعظم کے عہدے ملنے کی توقع ظاہر کر رہے ہیں۔

کئی رہنماؤں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا

طالبان کے مرکزی شوریٰ کے رکن ملا عبد القیوم ذاکر کو آئندہ کے نظام میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ملا عبد القیوم ذاکر کسی زمانے میں طالبان کے ایک ناراض دھڑے کے سربراہ تھے۔ 2016 میں بلوچستان میں امریکہ کے ڈرون حملے میں طالبان کے امیر ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد انہوں نے اختلافات ختم کر دیے تھے اور دوبارہ کوئٹہ شوریٰ میں شامل ہو کر سرگرمیاں شروع کر دی تھیں۔

اسی طرح نوجوان طالبان رہنما ملا عبد الرؤف کو بھی کسی اہم عہدے سے نوازا جا سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان کو 20 برس کی عمر میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا بعد ازاں کابل کی بگرام جیل اور پھر گوانتانامو بے کی جیل بھیج دیا گیا تھا جہاں وہ امریکہ کی قید میں رہے تھے۔

افغانستان کے مشرقی زون کے لیے طالبان کے مقرر کردہ گورنر عبد الکیبر بھی آئندہ کی حکومت میں اہم عہدے کے لیے موزوں افراد کی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں۔

افغانستان کے جنوبی خطے کے لیے طالبان کی فوج کے سابق سربراہ ملا عبدالرزاق بھی کسی اہم فوجی یا سیاسی عہدے پر تعینات ہو سکتے ہیں۔

طالبان کے امیر

تحریک طالبان افغانستان یا اماراتِ اسلامی کے موجودہ سربراہ 60 سالہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ طالبان کی 2001 میں ختم ہونے والی حکومت کے آخری ایام اور بعد میں 2015 میں شرعی عدالت کے سربراہ رہے ہیں۔

طالبان کے مطابق ملا ہیبت اللہ کبھی بھی افغانستان سے باہر نہیں گئے ہیں البتہ کوئٹہ اور کچلاک میں ہونے والے تشدد کے واقعات میں ان کی پاکستان میں موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

سن 2012 میں ملا ہیبت اللہ پر کوئٹہ ہی میں ان کے ایک شاگرد نے فائرنگ کرنے کی کوشش کی تھی۔ جب کہ اگست 2019 میں کچلاک میں ہونے والے بم دھماکے کا ہدف بھی ملا ہیبت اللہ تھے۔ اس دھماکے میں ملاہیبت اللہ کے بھائی حافظ احمد اللہ ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق ملا ہیبت اللہ کے ایک بیٹے نے 20 جولائی 2017 کو ہلمند میں فوجی اڈے پر خود کش حملہ کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG