رسائی کے لنکس

logo-print

پرائمری الیکشن: بائیڈن مزید تین امریکی ریاستوں میں کامیاب


امریکہ کے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیمو کریٹک پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے ہونے والے پرائمریز میں سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن کو اپنے حریف برنی سینڈرز پر فیصلہ کن برتری حاصل ہو گئی ہے۔

منگل کو تین امریکی ریاستوں فلوریڈا، الینوائے اور ایریزونا میں ہونے والے پرائمری انتخابات میں جو بائیڈن نے اپنے حریف برنی سینڈرز کے خلاف واضح کامیابی حاصل کی۔

منگل کی شب تک آنے والے نتائج کے مطابق ریاست فلوریڈا میں جو بائیڈن کو 62 فی صد جب کہ برنی سینڈرز کو 23 فی صد ووٹ ملے جب کہ الینوئے میں 89 فی صد نتائج کے مطابق جو بائیڈن 23 فی صد پوائنٹس کی برتری سے آگے تھے۔

ریاست ایریزونا میں جہاں پولنگ سب سے آخر میں ختم ہوئی وہاں بھی جو بائیڈن کو واضح برتری حاصل تھی۔

منگل کو ریاست اوہایو میں بھی پرائمری الیکشن ہونا تھا لیکن ریاست کے ری پبلکن گورنر نے کرونا وائرس کے پیشِ نظر الیکشن کو جون تک ملتوی کردیا تھا۔

منگل کی کامیابی کے بعد آخری 24 ریاستوں میں ہونے والے ڈیمو کریٹک پرائمریز میں سے 19 میں فتح جو بائیڈن کے نام ہوگئی ہے۔

ڈیمو کریٹک پرائمری انتخابات میں ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔
ڈیمو کریٹک پرائمری انتخابات میں ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔

منگل کو ابتدائی نتائج سامنے آنے کے بعد جو بائیڈن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ رات ہماری مہم کے لیے انتہائی شاندار رہی۔

انہوں نے کہا کہ "ہم صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کی دوڑ میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اور ایسا ہم ایک مضبوط اتحاد بنا کر کر رہے ہیں تاکہ نومبر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکیں۔"

حالیہ ہفتوں میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے بیشتر اُمیدواروں نے صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کی دوڑ سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے جو بائیڈن کی حمایت کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ان کی مہم کو تقویت ملی ہے۔

جو بائیڈن کی مہم کو ابتداً مختلف ریاستوں میں پے درپے ناکامیوں کے بعد دھچکا لگا تھا۔ البتہ جنوبی کیرولائنا میں فروری کے اختتام پر ہونے والے پرائمری انتخابات سے اُن کی کامیابی کا سفر شروع ہوا۔

بعد ازاں 'سپر ٹیوز ڈے' کو کئی امریکی ریاستوں میں کامیابی نے اُن کی صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کی اُمیدوں کو پھر سے روشن کر دیا تھا اور انہیں صفِ اول کا امیدوار بنا دیا تھا۔

برنی سینڈرز اور جو بائیڈن (فائل فوٹو)
برنی سینڈرز اور جو بائیڈن (فائل فوٹو)

امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں - ری پبلکن اور ڈیموکریٹ - کی صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے 50 ریاستوں اور 9 وفاقی حلقوں کے مندوبین کی اکثریت درکار ہوتی ہے جنہیں پارٹی ارکان منتخب کرتے ہیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے ان نمائندوں کی کل تعداد 3979 ہے جن میں سے 1990 مندوبین جیتنے والا صدارتی امیدوار بن جائے گا۔

منگل کے پرائمری انتخابات کے بعد جو بائیڈن کو 1147 مندوبین جب کہ برنی سیڈرز کو 861 ڈیلیگیٹس کی حمایت حاصل ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اب اس بات کا غالب امکان ہے کہ سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن ہی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے کے لیے ڈیمو کریٹک پارٹی کے اُمیدوار ہوں گے۔

تاہم برنی سینڈرز نے اب تک مقابلے سے دستبرداری کا کوئی عندیہ نہیں دیا ہے۔ منگل کے پرائمری انتخابات کے نتائج کے بعد بھی اپنے ایک ویڈیو بیان میں سینیٹر سینڈرز نے نتائج پر بات کرنے سے گریز کیا اور اپنی گفتگو کرونا وائرس سے پیدا ہونے والے بحران پر مرکوز رکھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG