رسائی کے لنکس

کرونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ سے امریکہ میں انتخابات متاثر ہونے کا خدشہ


ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی نامزدگی کے نمایاں امیدوار جو بائیڈن ہیوسٹن میں اپنے مداحوں کے ساتھ۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے سیاسی ریلیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ 2 مارچ 2020
ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی نامزدگی کے نمایاں امیدوار جو بائیڈن ہیوسٹن میں اپنے مداحوں کے ساتھ۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے سیاسی ریلیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ 2 مارچ 2020

کرونا وائرس کا خطرہ امریکہ میں ایک سیاسی مسئلے کے طور پر سامنے آ چکا ہے، جس میں ڈیموکریٹ ارکان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں اور ایک ایسی ممکنہ وبا سے نمٹنے کی ان کی صلاحیت پر سوال اٹھا رہے ہیں جو امریکی معیشت کو متاثر کر رہی ہے۔

یہ خدشات موجود ہیں کہ اس وائرس کے پھیلاؤ سے انتخابی ریلیوں، سیاسی کنونشنز، حتیٰ کہ ووٹنگ کے مقامات پر عوامی اجتماعات محدود ہونے سے خود انتخابی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ امریکہ میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے اپنے طریقے کا دفاع کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ اس وبا کے آغاز سے، میری انتظامیہ نے شہریوں کے تحفظ کے لیے تاریخ کی سب سے بھرپور کارروائی کی ہے۔

لیکن، نقاد کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے سابقہ بیانات نے بحران سے نمٹنے کے ان کے اقدام کے اثرات کو کم کر دیا ہے، جب کہ وہ ڈیموکریٹس پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ سیاسی مفاد کے لیے خوف پھیلا رہے ہیں۔

ٹرمپ اس وائرس سے نمٹنے کے لیے کئی ارب ڈالر کے اخراجات کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کی کانگریس نے پہلے ہی منظوری دے دی ہے۔ لیکن دوسری جانب وائرس کے خوف سے اسٹاک مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر گراوٹ سے اقتصادی افزائش سے متعلق ٹرمپ کے انتخابی وعدوں کو دھچکا لگا ہے۔

وینڈ ربلٹ یونیورسٹی کے تاریخ دان تھامس شواٹز کہتے ہیں کہ کرونا وائرس سے جو چیز متاثر ہو سکتی ہے اس میں صدر ٹرمپ کی صدارتی مہم بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ڈیموکریٹک حریف اس بحران سے سیاسی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ صحت سے متعلق ایک ایمرجینسی، صحت کی دیکھ بھال کے امریکی نظام کی کمزوریوں کو اجاگر کر سکتی ہے اور ڈیموکریٹس کے ان مطالبوں کو تقویت دے سکتی ہے کہ صحت کی سہولیات کے لیے سرکاری کا عمل دخل بڑھایا جائے۔

اس کے علاوہ عوام کی جانب سے بحران کے دوران تجربہ کار قیادت کی خواہش سابق نائب صدر جو بائیڈن کو فائدہ پہنچا سکتی ہے جو ڈیموکریٹس کے حالیہ پرائمری انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔

امریکین انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کے میتھیو کانٹینٹی کہتے ہیں کہ غیر یقینی کی کسی صورت حال اور بحران کے حالات میں لوگ کسی محفوظ فیصلے کو پیش نظر رکھیں گے۔

اگر کرونا وائرس کے انفیکشن میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تو سیاسی پارٹیاں آئندہ کے نامزدگی کنونشنز کی سطح کم کرنے پر غور کر سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان مطالبوں میں اضافہ ہو رہا ہے کہ ووٹروں کی صحت کے تحفظ کے لیے بذریعہ ڈاک ووٹنگ کے سلسلے کو توسیع دی جائے۔

XS
SM
MD
LG