رسائی کے لنکس

logo-print

عراق: سیاسی بے چینی کا ماحول، بائیڈن کا عراق کا غیر اعلانیہ دورہ


بائیڈن کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’’نائب صدر اُن اقدامات پر بھی گفتگو کریں گے جنھیں عراق کے معاشی استحکام کو فروغ دینے اور علاقائی تعاون کو بڑھاوا دینے کے لیے بین الاقوامی برادری انجام دے سکتی ہے‘‘

امریکی نائب صدر جو بائیڈن عراق میں ہیں جہاں وہ عراقی رہنماؤں سے بات کریں گے، جس میں داعش کے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں ’’دھیان عراقی قومی اتحاد اور کارروائی کی شدت جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی پر مرتکز رہے گا‘‘۔

بائیڈن کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’نائب صدر اُن اقدامات پر بھی گفتگو کریں گے جنھیں عراق کے معاشی استحکام کو فروغ دینے اور علاقائی تعاون کو بڑھاوا دینے کے لیے بین الاقوامی برادری انجام دے سکتی ہے‘‘۔
بائیڈن کی سطح کے اعلیٰ ترین امریکی اہل کار کے موجودہ دورے سے قبل، اُنھوں نے پچھلی بار 2011ء میں عراق کا دورہ کیا تھا۔

آمد کے فوری بعد، اُنھوں نے عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی سے ملاقات کی۔

نام ظاہر نہ کیے گئے ایک امریکی اہل کار نے، جو طیارے میں بائیڈن کے ساتھ سفر پر ہیں، کہا ہے کہ ’’شروع ہی سے انتظامیہ میں نائب صدر ہی عراق کے معاملے پر رابطے کا اہم کام انجام دے رہے ہیں۔‘‘

جمعرات کا یہ سفر، جس کا سکیورٹی تشویش کے باعث پیشگی اعلان نہیں کیا گیا تھا، ایسے وقت ہو رہا ہے جب عراق میں سیاسی بھونچال کے نتیجے میں ملک کی حکومت بے اثر ہو کر رہ گئی ہے۔

وزیر اعظم حیدر العبادی اپنی حکومت میں اصلاحات لانے کے بارے میں مدتوں پہلے کیے گئے عہد پر عمل درآمد کی کوشش کر رہے ہیں جب کہ شیعہ عالمِ دین مقتدا الصدر کے حامی مظاہرین نے روزانہ کی بنیاد پر احتجاج جاری رکھا ہوا ہے، جس میں سیاسی حامیوں کی بجائے پیشہ ور ماہرین پر متشمل کابینہ تشکیل دیے جانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

منگل کے روز، عراق کے پارلیمان نے وزیر اعظم کی جانب سے کابینہ کی جزوی رد و بدل کی تجویز منظور کرلی۔

عبادی کی تجویز کردہ رد و بدل کے نتیجے میں غیر وابستہ ٹیکنوکریٹس کو کلیدی قلمدان دیے جائیں گے، تاکہ بلاجواز سرپرستی اور بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑا جائے، جس کے باعث سنہ 2003 سے اب تک، جب امریکی قیادت میں عراق کو فتح کیا گیا، عوامی خدمت کو اولیت دی جائے۔

XS
SM
MD
LG