رسائی کے لنکس

logo-print

'صدر ٹرمپ خطرناک حد تک نا اہل ہیں'


سابق نائب صدر اور ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن۔ فائل فوٹو

امریکہ میں حزب اختلاف کی جماعت ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ایرانی جنرل قاسم سلیمان کو ہدف بنا کر ہلاک کرنے کے حوالے سے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ خطرناک حد تک نااہل شخص ہیں۔

جو بائیدن اور دیگر ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار صدر ٹرمپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے اقدامات کے خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

جو بائیڈن نے نیو یارک میں تقریر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ پر شدید تنقید کی اور اس حملے کے ممکنہ اثرات کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی۔

اُن کا کہنا تھا کہ انہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس معاملے کے بارے میں صدر ٹرمپ کے پاس کوئی حکمت عملی موجود ہی نہیں ہے۔ سب سے اہم سچ تو یہ ہے کہ ان کے پاس اس صورت حال کے خاتمے کے لیے کوئی پالیسی بھی موجود نہیں ہے۔

جو بائیڈن کے بقول، "صدر ٹرمپ کی مسلسل غلطیوں اور ناقص فیصلہ سازی کے باعث امریکہ کے لیے اس سلسلے میں آگے بڑھنے کے کوئی آپشنز باقی نہیں رہے۔"

جو بائیڈن نے ایران سے متعلق صدر ٹرمپ کے اقدامات اور سابق اوباما انتظامیہ کی سفارتی حکمت عملیوں کا موازنہ کیا۔

سنیٹر برنی سینڈرز۔ فائل فوٹو
سنیٹر برنی سینڈرز۔ فائل فوٹو

بائیڈن نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کے سلسلے میں کانگریس سے منظوری حاصل کریں۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’صدر صاحب، آپ کو کانگریس کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔ جناب صدر، آپ کو جنگ کے اختیارات سے متعلق قرارداد کی پابندی کرنا ہو گی اور آپ کانگریس کی منظوری اور اختیار کے بغیر ایران کے خلاف جنگ نہیں کر سکتے۔

ڈیموکریٹک پارٹی میں جو بائیڈن کے مقابلے میں کھڑے ہونے والے دیگر صدارتی امیدوار بھی صدر ٹرمپ کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔

ورمانٹ سے سنیٹر اور ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار برنی سینڈرز کہتے ہیں کہ امریکہ کا کردار مشکل ہو سکتا ہے مگر اسے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر تنازعات اور جنگ کے خطرے کو ختم کرنا ہو گا نا کہ جنگ کو فروغ دینا، جیسا کہ صدر ٹرمپ کر رہے ہیں۔

سنیٹر ایمی کلوبوچر۔ فائل فوٹو
سنیٹر ایمی کلوبوچر۔ فائل فوٹو

ایک اور ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار سنیٹر ایمی کلوبوچر کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر بہت زیادہ تشویش ہے کہ موجودہ صدر نے غیر متناسب طاقت کا استعمال کیا اور ایسا فیصلہ کیا جس سے تنازعے کی شدت میں مذید اضافہ ہو گا۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدارت کے ایک اور امیدوار اور ریاست انڈیانا کے شہر ساؤتھ بینڈ کے سابق میئر پیٹ بوٹاجج نے آئیووا میں ایک ٹاؤن ہال میٹنگ کے دوران کچھ اس انداز میں تنقید کی،

’’دنیا بھر کی قیادت کے حامل ہونے کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ دنیا میں جہاں بھی کوئی مسئلہ درپیش ہو، وہ وہاں فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنے لگیں۔ اس کردار کا تقاضا یہ ہے کہ سفارتی، اقتصادی، سماجی اور اطلاعاتی طریقوں سمیت سب طریقے استعمال کیے جائیں اور فوج کا استعمال اس صورت میں ہی کیا جائے جب کوئی اور راستہ موجود نہ ہو تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہمارے مفادات اور ہماری اقدار کا تحفظ کیا جائے، ایسی اقدار جو ہم دنیا بھر میں موجود انسانی برادری کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔"

ساؤتھ بینڈ، انڈیانا کے سابق میئر پیٹ بوٹاجج۔ فائل فوٹو
ساؤتھ بینڈ، انڈیانا کے سابق میئر پیٹ بوٹاجج۔ فائل فوٹو

تاہم صدر ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے اقدام کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قاسم سلیمانی کو ایک عفریت قرار دیا جاتا رہا ہے اور وہ واقعی ایک عفریت تھے اور اب وہ عفریت نہیں رہے کیونکہ وہ مر چکے ہیں اور یہ بہت سے ملکوں کے لیے ایک اچھی بات ہے۔

ایران کے حوالے سے یہ تنقید ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہی ہے جب ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدواروں کو آئیووا میں صدارتی کاکس کے دوران تین فروری کو پہلی ووٹنگ کا سامنا ہے اور اس کے لیے تمام امیدواروں کی مہم زور پکڑ رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG