رسائی کے لنکس

صدر ٹرمپ کا مواخذہ، جوڈیشری کمیٹی نے دو الزامات کی منظوری دے دی


امریکی ایوان نمائندگان کی جوڈیشری کمیٹی نے جمعے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے دو الزامات کی منظوری دے دی۔ اس طرح مکمل ایوان میں رائے شماری کے لیے راستہ ہموار ہوگیا ہے، جو اگلے ہفتے کے آغاز پر ہونے کا امکان ہے۔

کمیٹی میں ہوئی رائے شماری میں ارکان نے پارٹی بنیاد پر ووٹ دیے۔

الزامات کے حق میں 23 اور مخالفت میں 17 ووٹ پڑے۔ صدر ٹرمپ پر اختیارات کے غلط استعمال اور کانگریس کی تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

یہ دونوں الزامات اب پورے ایوان کے سامنے پیش ہوں گے جہاں ان پر مزید مباحثہ ہوگا۔ اس کے بعد ایوان میں بدھ کو حتمی ووٹنگ ہونے کا امکان ہے۔

اگر پورے ایوان نے ان دونوں الزامات کی منظوری دی تو صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی مکمل ہو جائے گی۔ لیکن اگلے سال کے اوائل میں یہ مقدمہ سینیٹ کے سامنے پیش ہوگا۔

رائے شماری کے کچھ لمحات بعد وائٹ ہاؤس کی خاتون ترجمان اسٹیفی گریشم نے ایک بیان میں ووٹنگ کی مذمت کی۔

گریشم نے کہا کہ ’’ایوان نمائندگان کی جوڈیشری کمیٹی کی جانب سے مواخذے کی انکوائری مایوس کن کوشش تھی، جو اپنے شرمناک انجام کو پہنچی۔ ایوان نے صدر کے ساتھ شایان شان سلوک نہیں کیا۔ وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ سینیٹ ان سے بہتر برتاؤ کرے گا۔‘‘

جمعے کی شام وائٹ ہاؤس میں پراگوے کے صدر ماریو ابدو بیجیز کے ہمراہ، اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے، ٹرمپ نے بتایا کہ ڈیموکریٹس مواخذے پر سیاست کر رہے ہیں۔ لیکن، مزید کہا کہ ’’سیاسی طور پر، اس میں میرے لیے بہتری پنہاں ہے‘‘۔

انھوں نے اعلان کیا کہ ڈیموکریٹس ’’مواخذے کی طاقت‘‘ کا بے جا استعمال کر رہے ہیں؛ جو ملک کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔

صدر نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ سینیٹ میں اس مقدمے پر تیزی سے یا طویل مباحثہ ہو۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی اکثریت والی کمیٹی نے جمعرات کو ریپبلیکن پارٹی کی جانب سے کی گئی کوششوں پر تنقید کی، جسے انھوں نے مجوزہ الزامات کو کمزور کرنے یا انھیں سرے سے نکالنے کی کوشش قرار دیا۔

کمیٹی نے کہا کہ آئندہ ہفتے ایوان نمائندگان کی متوقع نشت میں ان مجوزہ الزامات کی منظوری دی جائے گی۔

ڈیموکریٹک قانون سازوں نے 14 گھنٹے تک ان دو الزامات پر تفصیلی مباحثہ کیا، جس دوران کئی بار دعوے اور جوابی دعوے کیے گئے، جس میں ریبپلیکنز نے مواخذے میں شامل کیے گئے الزام کہ صدر نے اختیارات کا غلط استعمال کیا کو مسترد کیا کہ ٹرمپ نے 2020ء کے انتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی کے ممکنہ مد مقابل امیدوار، اور نائب صدر جو بائیڈن کے خلاف تفتیش کے لیے یوکرین پر دباؤ ڈالا۔

کمیٹی نے مواخذے میں شامل دوسرے الزام کی بھی منظوری دی، جس میں کہا گیا ہے کہ مواخذے کی کارروائی پر مامور تفتیش کاروں کو سینکڑوں دستاویزات روک کر اور ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں کو سماعت میں شرکت سے روک کر، ٹرمپ نے کانگریس کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالی۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے اکثریت والے ایوان نمائندگان میں ریپلیکن پارٹی کے ارکان کی جانب سے ٹرمپ کا مواخذہ روکنے کی کوششیں ناکام بنا دی جائیں گی۔

ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے چوٹی کے ایوان نمائندگان کے رکن، ڈگ کولنز نے ایک بیان میں الزام لگایا ہے کہ جمعرات کو کئی گھنٹوں تک مباحثہ جاری رکھ کر ووٹنگ میں تاخیر کے حربے استعمال کرکے ڈیموکریٹس نے گندی سیاست کا مظاہرہ کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG