رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ کا الیکشن میں ہار نہ ماننا شرمندگی کی بات ہے: بائیڈن


جو بائیڈن

امریکہ صدارتی انتخابات کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق نو منتخب صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ اس بات سے پریشان نہیں ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک انتخابات میں اپنی شکست تسلیم نہیں کی ہے۔ لیکن ان کے بقول یہ صدر ٹرمپ اور امریکہ کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔

امریکی ریاست ڈیلاویئر کے شہر ولمنگٹن میں جہاں بائیڈن 20 جنوری کو انتقالِ اقتدار کے لیے تیاریوں اور منصوبہ بندی میں مصروف ہیں، صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جو بائیڈن نے کہا کہ "یہ صدر کی میراث کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔"

صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم نے صدارتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی میں بے ضابطگیوں سے متعلق مختلف ریاستوں میں ایک درجن سے زائد مقدمات درج کرائے ہیں۔ تاہم انہوں نے ان الزامات کا ابھی تک کوئی قابلِ ذکر ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔

صحافیوں سے اپنی گفتگو میں جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ انہوں نے انتقالِ اقتدار کی تیاریاں شروع کر دی ہیں اور ان کے مطابق اپنی شکست تسلیم کرنے سے صدر ٹرمپ کے انکار سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی توجہ کرونا وائرس کی عالمی وبا پر مرکوز رکھنا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے امریکہ میں اب تک 2 لاکھ 38 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

نو منتخب صدر کا مزید کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مستقبل کی حکومت کے چند اہم عہدوں پر نامزدگیوں کا اعلان نومبر 26 سے شروع ہونے والی تھینکس گیونگ کی چھٹیوں سے پہلے کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

ان کے بقول ٹرمپ کمپین کی جانب سے ان کی فتح کو تسلیم نہ کیے جانے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔

صدر ٹرمپ نے انتخابات کے نتائج کو چیلنج کر رکھا ہے جس کے باعث ان کی حکومت کے عہدیدار جو بائیڈن کے نمائندوں کے ساتھ انتقالِ اقتدار کی تفصیلات طے کرنے سے گریز کر رہے ہیں جو صدارتی انتخابات کے بعد معمول کی کارروائی ہے۔

امریکی حکومت کے ادارے 'جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن' نے بائیڈن کی متوقع فتح کو ماننے سے انکار کر دیا ہے، جس کی وجہ سے اب تک بائیڈن کی انتخابی مہم کے ذمے داران وفاقی ایجنسیوں میں دفاتر کھولنے، سرکاری ای میل ایڈریسز کے حصول اور انتقالِ اقتدار سے متعلق سرگرمیوں کے لیے وفاقی فنڈ سے محروم ہیں۔

مگر بائیڈن ان معاملات کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہے۔ ان کے بقول ہم یہ سب فنڈنگ کے بغیر بھی کر سکتے ہیں۔

تاہم انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ انہیں ابھی تک امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے دنیا بھر میں ہونے والے واقعات کی روزانہ کی بنیاد پر دی جانے والی وہ بریفنگ نہیں مل رہی جو عموماً نو منتخب صدر کو دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر دی جانے والی یہ صدارتی بریفنگ کارآمد ہو گی۔ لیکن ان کے بقول ابھی میں صدر نہیں بنا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں انتخاب میں اپنی فتح تسلیم کرانے کے لیے عدالت جانے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ان کے بقول جب 20 جنوری آئے گا تو یہ سب کچھ خود بخود ہی ہو جائے گا۔

ایک صحافی کے اس سوال پر کہ اگر صدر ٹرمپ ان کی یہ پریس کانفرنس دیکھ رہے ہیں تو وہ ان سے کیا کہنا چاہیں گے، بائیڈن مسکرائے اور انہوں نے کہا، "جنابِ صدر! میں آپ سے بات چیت کا منتظر ہوں۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG