رسائی کے لنکس

logo-print

شام کے تنازع پر غور کے لیے عالمی طاقتوں کا اجلاس


اجلاس میں سلامتی کونسل کے تمام پانچ مستقل ارکان امریکہ، برطانیہ، روس، فرانس اور چین - کے سفارت کاروں نے شرکت کی۔

شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو عالمی نگرانی میں دینے کی تجویز پر غور کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے نمائندے بدھ کو نیویارک میں اجلاس ہوا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ملاقات میں فرانس کی جانب سے سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والے اس قرا داد کے مسودے پر بھی بات چیت کی گی جس میں کیمیائی ہتھیار تلف نہ کرنے کی صورت میں شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کو "سخت اقدامات" کی دھمکی دی گئی ہے۔

بشار الاسد حکومت کا اہم ترین عالمی اتحادی روس مجوزہ قرار داد کے متن کو پہلے ہی ناقابلِ قبول قرار دے چکا ہے۔

اجلاس میں سلامتی کونسل کے تمام پانچ مستقل ارکان امریکہ، برطانیہ، روس، فرانس اور چین کے سفارت کار شریک ہوں گے لیکن تاحال یہ واضح نہیں کہ یہ اجلاس کہاں اور کس وقت ہو گا۔

اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شام میں جاری بحران پر عالمی ردِ عمل سے متعلق اپنے اختلافات دور کرنے کےلیے امریکہ اور روس کے سفارتی حکام دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کی تیاری کر رہے ہیں۔

مذکورہ ملاقات جمعرات کو جنیوا میں ہونی ہے جس میں امکان ہے کہ دونوں رہنما شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال پر عالمی ردِ عمل اور دمشق حکومت کے خلاف فوجی کاروائی سے متعلق اختلافات دور کرنے پر بات کریں گے۔

امریکہ کا الزام ہے کہ 21 اگست کو دمشق کے نواح میں کیا جانے والا مبینہ کیمیائی حملہ اسد حکومت نے کیا تھا جس میں امریکی حکام کے دعوے کے مطابق 1400 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

شام کی حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے جب کہ حملے کی تحقیقات کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ماہرین کی رپورٹ بھی تاحال منظرِ عام پر نہیں آئی ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے اس حملے پر شام کو سبق سکھانے کے لیے اس کے خلاف فوجی کاروائی کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جس کے لیے وہ امریکی قانون سازوں اور عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

لیکن امریکی کوششوں کے جواب میں شامی حکومت کے اتحادی روس نے تجویز پیش کی ہے کہ اگر شام اپنے کیمیائی ہتھیار عالمی نگرانی میں دیدے تو اس کے خلاف فوجی کاروائی نہیں کی جانی چاہیئے۔

شام کی حکومت نے اس روسی تجویز کی حمایت کی ہے جب کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے اس پر محتاط ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG