رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں صدارتی نظام کی کوئی گنجائش نہیں، بلاول بھٹو


بلاول بھٹو زرداری، فائل فوٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک میں صدارتی نظام کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایسی کوئی بھی کوشش غیر آئینی ہو گی جس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔

بلاول بھٹو زرداری اسلام آباد میں عاصمہ جہانگیر فاؤنڈیشن کے زیراہتام مختلف سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

اجلاس میں شرکت کے بعد بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اس ملک میں امپائر صرف ایک ہے اور وہ عوام ہیں۔ جمہوریت میں صرف عوام کی مرضی چلتی ہے کسی تھرڈ امپائر کی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدارتی نظام نہ تو پاکستان کے مفاد میں ہے نہ جمہوریت اور نہ ہی وفاق کے مفاد میں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں بلاول نے کہا کہ نیب اور احتساب پر پیپلزپارٹی کا موقف بالکل واضح ہے۔ نیب کا قانون، کالا قانون ہے جسے ایک آمر نے اپنے مفاد کے لیے بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ احستاب سے کسی کو استثنیٰ نہیں ہونا چاہئے چاہے وہ سیاست دان ہوں، جج ہوں یا جرنیل ہوں، سب کا یکساں احتساب ہونا چاہیے۔ احتساب ہر اس شخص کا ہونا چاہیئے جو سرکاری خزانے سے تنخواہ لیتا ہے۔

انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ، معیشت اور دیگر امور چلانے میں سنجیدہ نہیں ہے اور وہ صرف یوٹرن لے رہی ہے۔

اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما مشاہد اللہ نے کہا کہ ‏بلاول بھٹو نے ملک کی خدمت کرنی ہے۔ خوشی ہوئی کہ بلاول جمہوری خیالات رکھتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر اپنے ردعمل میں تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ صدارتی نظام اور اٹھارہویں ترمیم کی باتیں صرف وقت کا زیاں ہے۔ بلاول کی آئین اور جمہوریت سے اچانک محبت کی وجہ جانتے ہیں۔ یہ نہ تو قوم کا درد ہے اور نہ عوام کی بھلائی کا معاملہ ہے۔ یہ مطالبہ صرف مقدمات سے رہائی کی کوشش ہے جس کے لیے آصف زرداری سمیت پوری پیپلز پارٹی بلاول کو استعمال کر رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG