رسائی کے لنکس

logo-print

سانحہٴ کارساز کو نو سال مکمل، ریلی نے پارٹی میں نئی روح پھونک دی


پی پی نے پچھلے تین سالوں سے سیاسی سرگرمیوں میں کھل کر حصہ نہیں لیا تھا۔ اتوار کی ریلی پی پی پی میں نئی روح پھونک گئی

سانحہٴ کارساز کو نو سال مکمل ہوگئے۔ 18 اکتوبر 2007 کو پیش آنے والے اس سانحے میں انتقال کر جانے والے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی منگل کو اسی مقام پر برسی منائی گئی۔

کارکنوں کی روح کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کی گئی، جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گڑھی خدا بخش میں مرحومین کی قبروں پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔

بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ بھی تھے جبکہ برسی کے حوالے سے ہونے والی قرآن خوانی اور اجتماعی دعا میں بلاول کی پھپھو فریال تالپور، سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور دیگر اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔

سانحہ کارساز کی یاد میں ریلی
گزشتہ اتوار کو سانحہ میں انتقال کر جانے والے افراد کو خراج عقیدت پیش کرنے کی غرض سے کراچی میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس کا نام ’سلام شہدا ریلی‘ تھا۔ ریلی کی قیادت بلاول بھٹو نے کی۔

ریلی کا شمار عرصے تک شہر کی چند بڑی اور چنیدہ ریلیوں میں ہوتا رہے گا۔ ریلی نے 22 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا تھا جو سست روی اور شرکا کے رش کے باعث گیارہ گھنٹے میں طے ہوا۔

بلاول کا خطاب اور چار مطالبات
ریلی کےدوران بلاول بھٹو نے مختلف مقامات پر خطاب کیا۔ خطاب میں انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف، مسلم لیگ نون، عمران خان و پی ٹی آئی، ایم کیو ایم حتیٰ کہ بھارتی وزیر اعظم مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘‘حکمران جماعت ملک کو تباہی کے راستے پر لے جا رہی ہے۔ ’شیر کے شکار‘ کا ٹھیکا ایک ’کھلاڑی‘ کو دے دیا گیا ہے۔ عوام میرا ساتھ دیں۔ ہم پاکستان میں تبدیلی لائیں گے اور عوام کو دہشت گردی، انتہا پسندی، غربت، بے روزگاری، جہالت، فرقہ واریت اور فرسودہ نظام سے نجات دلائیں گے۔‘‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیاست دان لڑ رہے ہیں اور مودی مسکرا رہا ہے۔ فون سے اڑنے والی ’پتنگ‘ کٹ گئی۔ تقسیم سندھ کی باتیں کرنے والے خود بکھر گئے۔ 2018 میں کراچی میں صرف تیر چلے گا۔

لانگ مارچ کی دھمکی
بلاول نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کو قومی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔قومی اتحاد کے لیے انہوں نے حکومت کو مطالبات بھی پیش کیے اور متنبہ کیا کہ اگر یہ چار مطالبات منظور نہ کیے گئے تو 27 دسمبر کو لانگ مارچ کی کال دیں گے۔

بلاول نے مطالبات پیش کئے کہ پارلیمانی نیشنل سیکورٹی کمیٹی بحال کی جائے۔ پیپلز پارٹی کا پاناما بل پارلیمنٹ سے منظور کرایا جائے۔ سی پیک پر بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس کی قرار دادوں پر عمل کیا جائے اور فوری طور پر وزیر خارجہ کا تقرر کیا جائے۔

ریلی سے حزب اختلاف کے رہنما سید خورشید احمد شاہ، سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بھی خطاب کیا۔

ریلی کا مقصد
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سنہ 2013 کے بعد سے اب تک متعدد چھوٹے بڑے شہروں میں کئی بار ضمنی انتخابات اور ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات ہوچکے ہیں جن میں سے بیشتر میں مسلم لیگ ن جیت کر پہلے اور پاکستان تحریک انصاف دوسرے نمبر پر آئی ہے، جبکہ پی پی جو ملک گیر سطح پر مقبولیت کے ریکارڈ بنانے کا دعویٰ کرتی رہی ہے اسے تیسرا نمبر ملا۔ پارٹی کو قیادت کی اور قیادت کو عوام تک رسائی چاہئے تھی اور ریلی اس کا بہترین ذریعہ بنی۔

نئی روح پھونکنا
اس صورتحال میں جبکہ پی پی نے پچھلے تین سالوں سے سیاسی سرگرمیوں میں کھل کر حصہ نہیں لیا تھا، اتوار کی ریلی پی پی پی میں نئی روح پھونک گئی۔ ریلی میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ وہ دور دراز کے شہروں سے بھی شریک ہوئے اور صبح 8 بجے سے رات بارہ بجے کے بعد تک ریلی میں شریک رہے۔ لیاری والوں نے بھی بڑھ چڑھ کر اس ریلی میں حصہ لیا اور خوب جشن منایا۔

عوام کا جوش و خروش
عوام نے جگہ جگہ سندھ کا روایتی ڈانس بھی پیش کیا اور مختلف روایتی نغمے بھی گائے جبکہ خواتین اور بڑی عمر کے افراد کے ساتھ ساتھ بچوں نے بھی اس میں حصہ لیا۔ ریلی جہاں جہاں سے بھی گزری اس کا بھرپور انداز میں استقبال کیا گیا۔

طلال چوہدری کی تنقید
مسلم لیگ (ن )کے رہنما طلال چوہدری نے کہا ہے ’’پیپلز پارٹی نے اگر کارکردگی نہ دکھائی تو2018ء میں سندھ سے بھی فارغ ہو جائے گی۔ بلاول کارکردگی دکھائیں، نعروں سے ووٹ نہیں ملتے۔ پیپلز پارٹی کو کرپشن کا حساب دینا ہوگا۔‘‘

شاہراہوں کی بندش سے بدترین ٹریفک جام
ریلی کے باعث شہر کی اہم ترین شاہرائیں کئی گھنٹےبند رہیں۔ اس سے ٹریفک اس حد تک جام ہوگیا کہ ایمبولینسوں کو بھی راستہ نہیں مل سکا اور مریض اسپتال نہ پہنچ سکے۔ عوام کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں کئی کئی گھنٹے لگے جبکہ بیشتر افراد تو ایسے تھے جو گھر سے نکلے اور کئی گھنٹے راستوں کی تلاش کے بعد مجبورا ً تھک ہار کر واپس آگئے۔

جن شاہراہوں اور مقامات سے ریلی کو گزرنا تھا انہیں سیکورٹی خدشات کے باعث کنٹینر اور رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔ اس وجہ سے بھی لوگوں کو انتہائی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ مائی کلاچی روڈ، مولوی تمیز الدین خان روڈ، ماڑی پور روڈ، ایم اے جناح روڈ، شاہراہ قائدین اور شاہراہ فیصل اور کوریڈور تھری مکمل طور پر بند رہی جبکہ گلستان جوہر، گلشن اقبال، لیاقت آباد، سرجانی ٹاؤن، نیو کراچی، نارتھ کراچی، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، فیڈرل بی ایریا اوردیگر علاقے بھی ٹریفک جام کے مسئلے سے الجھتے رہے۔

بدترین ٹریفک جام کی اطلاع پر وزیر اعلیٰ سندھ کا صحافیوں سے کہنا تھا کہ انہوں نے اسپتالوں کے لئے متبادل روٹس فراہم کئے ہیں۔ رہنمائی کے لیے ٹریفک پولیس بھی تعینات ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ ہم نے شہر بند نہیں کیا ہے، لوگ متبادل راستے اختیار کریں۔ متبادل روٹس کا کئی دن پہلے ہی اعلان کردیا گیا تھا، جبکہ عوام کو سہولت اور ٹریفک کی پریشانی سے بچنے کے لئے ریلی کا انعقاد بلاول بھٹو کی جانب سے 18اکتوبر کے بجائے دو دن پہلے چھٹی کے دن کیا گیا۔

شہر میں سورج غروب ہوجانے کے بعد کئی مقامات پر اسٹریٹ لائٹس بند تھیں خاص کر شاہراہ فیصل پر۔ لہذا، نرسری سے بلوچ کالونی تک کی اسٹریٹ لائٹس کا مسئلہ وزیر اعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی اور سیکرٹری محکمہ توانائی کو فوراً فون کر کے حل کرایا۔

سرکاری وسائل کے استعمال پر پی پی کو جواب دینا ہوگا: تحریک انصاف
شہر میں نکلنے والی ریلی پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران اسماعیل نے پی پی کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ صوبائی حکومت نے ریلی کے نام پر شہرکو یرغمال بنائے رکھا۔ سندھ حکومت نے ریلی کو کامیاب بنانے کے لیے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا، پی پی حکومت کو اس کا جواب دینا پڑے گا۔

XS
SM
MD
LG