رسائی کے لنکس

لیبیا: بن غازی پر قبضے کی جنگ میں درجنوں ہلاکتیں


بن غازی کے جنگجو آزادی کی چھٹی سالگرہ پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔ فروری 2017

صابری اور اس کے قریب واقع تاریخی علاقے سوق الحوت کی زیادہ تر عمارتیں گلی کوچوں میں ہونے والی لڑائیوں، فضائی حملوں اور توپوں کی گولہ باری کے نتیجے میں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں ۔

مشرقی لیبیا میں فورسز نے ٹینکوں کی آڑ میں اپنے مخالف گروپ کے زیر قبضہ بن غازی کی جانب بڑھنے ہوئے منگل کے روز بارودی سرنگیں صاف کیں ، سڑکوں پر لگائی گئی رکاوٹیں ہٹائیں اور گھات لگا کر فائرنگ کرنے والوں کو ہدف بنایا۔

خلیفہ حفطار کی خود ساختہ لیبیا کی نیشنل آرمی ایل این اے کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر کا کنڑول حاصل کی اپنی تین سالہ مہم کی تکمیل کے قریب پہنچ چکے ہیں اور انہوں نے حریف جنگجوؤں کو سمندری ساحل کے ایک چھوٹے سے علاقےصابری میں گھیر لیا ہے جس کی چوڑائی تقریباً سوا میل ہے۔

بن غازی پر قبضے کی مہم ایل این اے کے بھاری جانی نقصان کی وجہ سے رکتی رہی ہے ، اگرچہ پچھلے سال کے آغاز سے ہی اس لڑائی میں اس کا پلڑا بھاری جا رہا ہے۔

طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ پیر سے شروع ہونے والی تازہ جھڑپوں میں کم ازکم 17 فوجی ہلاک اور کم ازکم 50 زخمی ہو گئے ہیں۔

ایل این نے دعوی کیا ہے کہ اس نے اپنے حریفوں کے 19 جنگجو ہلاک کر دیے ہیں۔

صابری اور اس کے قریب واقع تاریخی علاقے سوق الحوت کی زیادہ تر عمارتیں گلی کوچوں میں ہونے والی لڑائیوں، فضائی حملوں اور توپوں کی گولہ باری کے نتیجے میں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں ۔یہاں زیادہ تر علاقے میں بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں۔

سن 2011 کی بغاوت اور ڈکٹیٹر معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد جاری افراتفری اور لڑائیوں کے نتیجے میں تین سال پہلے لیبیا دو حریف گروپس کے درمیان بٹ گیا تھا ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG