رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کے ریاستی انتخابات میں بی جے پی کو دھچکا


بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی (فائل فوٹو)

بھارتیہ جنتا پارٹی ان تین ریاستوں میں انتخابات ہارتی نظر آ رہی ہے جہاں اس کی حکومت تھی۔

بھارت کی پانچ ریاستوں مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ، تلنگانہ اور میزورم میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں جن کے مطابق حکمران جماعت بی جے پی کو ان تین ریاستوں میں شکست کا سامنا ہے جہاں اس کی حکومت تھی۔

ان پانچوں ریاستوں کی اسمبلیوں کے لیے انتخابات گزشتہ اور رواں ماہ مرحلہ وار ہوئے تھے جن میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی منگل کو کی جا رہی ہے۔

ابتدائی نتائج کے مطابق کانگریس چھتیس گڑھ اور راجستھان میں حکومت بنانے جا رہی ہے جب کہ مدھیہ پردیش میں وہ بڑی پارٹی کی حیثیت سے ابھری ہے۔

ان تینوں ریاستوں میں مرکز میں برسرِ اقتدار جماعت بی جے پی حکومت میں تھی۔ چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی گزشتہ 15 برسوں سے جب کہ راجستھان میں پانچ برس سے برسرِ اقتدار ہے۔

چھتیسں گڑھ میں بی جے پی کے ڈاکٹر رمن سنگھ، مدھیہ پردیش میں شیو راج سنگھ چوہان اور راجستھان میں وسندھرا راجے سندھیا وزیر اعلٰی کے منصب پر فائز تھے۔

اب تک کے نتائج کے مطابق چھتیس گڑھ کی ریاستی اسمبلی کی 90 نشستوں میں سے کانگریس کو 68 اور بی جے پی کو 12 نشستیں مل رہی ہیں۔ ریاست میں حکومت سازی کے لیے 45 نشستوں کی ضرورت ہے۔

راجستھان اسمبلی کی 199 میں سے کانگریس کو 102 اور بی جے پی کو 69 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ ریاست میں حکومت بنانے کے لیے 100 نشستوں کی ضرورت ہے۔

مدھیہ پردیش اسمبلی میں 230 نشستیں ہیں جن میں سے کانگریس کو 115 اور بی جے پی کو 106 نشستیں ملتی نظر آ رہی ہیں۔ یہاں رجحانات مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں اور کامیاب جماعت کے بارے میں حتمی طور پر کوئی رائے دینا ممکن نہیں۔

مدھیہ پردیش میں حکومت سازی کے لیے 115 نشستوں کی اکثریت درکار ہے۔

تلنگانہ کی ریاستی اسمبلی 119 نشستوں پر مشتمل ہے۔ وہاں برسرِ اقتدار تلنگانہ راشٹریہ سمیتھی (ٹی آر ایس) اور اس کی اتحادی مجلسِ اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کو 93 اور کانگریس تلگو دیسم پارٹی کے اتحاد کو 23 نشستیں ملتی نظر آ رہی ہیں۔ ریاست میں حکومت سازی کے لیے 70 نشستوں کی ضرورت ہے۔

میزورم اسمبلی میں 40 نشستیں ہیں۔ یہاں مقامی سیاسی جماعت میزو نیشنل فرنٹ (ایم این ایف) کو 26 اور کانگریس کو پانچ نشستیں مل رہی ہیں۔ یہاں کانگریس برسرِ اقتدار تھی۔

راجستھان ایک ایسی ریاست ہے جہاں کانگریس اور بی جے پی کے علاوہ دیگر جماعتوں کو بھی خاصی نشستیں (اب تک کے نتائج کے مطابق 25) مل رہی ہیں۔

کامیاب ہونے والے امیدواروں میں سے بیشتر کانگریس اور بی جے پی کے باغی رہنما ہیں۔ اگر آخری وقت میں حکومت سازی کے لیے سیٹیں کم پڑیں تو یہ امیدوار کنگ میکر کا رول ادا کریں گے۔

انتخابی مہم کے دوران اور اس کے بعد سروے رپورٹوں میں بھی یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ راجستھان کانگریس کی جھولی میں ہے اور چھتیس گڑھ بی جے پی کی۔ لیکن خاصے غیر متوقع نتائج سامنے آئے ہیں۔

ان ریاستوں میں انتخابی مہم بی جے پی کی طرف سے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور کانگریس کی طرف سے اس کے صدر راہل گاندھی نے چلائی تھی اور ان انتخابات کو در اصل انھی دونوں میں مقابلہ قرار دیا جا رہا تھا۔

بھارت میں آئندہ سال کے وسط میں پارلیمانی انتخابات ہونے ہیں جس سے قبل یہ آخری ریاستی انتخابات تھے۔

سیاسی تجزیہ کار ان ریاستی نتائج کے آئینے میں 2019ء میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کی صورت دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کانگریس کے ایک ترجمان نے بھی اسے 2019ء میں آنے والے نتائج کا ایک عکس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام حکومت کی غلط پالیسیوں سے اکتا چکے ہیں۔

لیکن بی جے پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ ریاستی انتخابات تھے جہاں مقامی ایشوز اہم ہوتے ہیں۔ پارلیمانی انتخابات میں قومی ایشوز ہوتے ہیں اس لیے ان کے نتائج مختلف ہوں گے۔

انتخابات سے قبل ہونے والے بیشتر سرویز میں ہر ریاست میں عوام کی اکثریت نے بی جے پی کو ووٹ دینے کی بات کہی تھی اور مودی کی تعریفوں کے پل باندھے تھے۔ لیکن نتائج بالکل برعکس آئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG