رسائی کے لنکس

توہین مذہب کا ملزم 11 سال بعد سپریم کورٹ سے بری


وکیل عائشہ تسنیم کا کہنا تھا کہ ملزم نشے کا عادی تھا اور اس کے خلاف شواہد بھی نہیں تھے۔

پاکستان کی عدالت عظمٰی کے تین رکنی بینچ نے ناکافی شواہد اور عدم شہادت کی بنا پر توہین مذہب کے ایک ملزم کو بری کرنے کا حکم دیا ہے۔

ملزم مشتاق عرف مستا پر الزام تھا کہ اُس نے مبینہ طور پر قرآن کے اوراق کو آگ لگائی تھی۔

مشتاق کی وکیل عائشہ تسنیم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ یہ مقدمہ اکتوبر 2006ء میں قائم کیا گیا تھا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ مشتاق نے مبینہ طور پر قرآن کے اوراق کو آگ لگائی۔

وکیل عائشہ تسنیم کا کہنا تھا کہ ملزم نشے کا عادی تھا اور اس کے خلاف شواہد بھی نہیں تھے۔

’’یہ واقعہ رات کو 10 بجے ایک گھر میں پیش آیا، لیکن اس میں شکایت کرنے والوں میں نہ تو مشتاق کے والد تھے، نہ اُن کی والدہ اور نہ ہی اُن کی بہن بلکہ ایک اجنبی شخص ارشاد حسین کی شکایت پر یہ مقدمہ درج کیا گیا۔‘‘

عائشہ تسنیم کا کہنا تھا کہ عدالت نے بڑی باریک بینی سے اس معاملے کو دیکھا اور سنا ہے۔

’’کیوں کہ استغاثہ مقدمہ ثابت نہیں کر سکا، لہذا عدالت نے عدم شہادت کی بنا پر اسے (مشتاق) بری کر دیا۔‘‘

مشتاق کو ایک ذیلی عدالت کی طرف سے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، جسے بعد میں ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا لیکن اب 11 سال بعد اُنھیں عدم شواہد کی بنا پر بری کر دیا گیا ہے۔

جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ میں شامل دو دیگر جج صاحبان میں جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ شامل تھے۔

ملزم کی وکیل کا موقف تھا کہ یہ واقعہ گھر میں پیش آیا اور موقع پر کوئی گواہ موجود نہیں تھا۔ تفتیش کے دوران پولیس کی طرف سے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کر لی گئی تھیں۔

واضح رہے کہ مشتاق کا تعلق انتہائی غریب خاندان سے بتایا جاتا ہے اور وہ ملتان ہی کی جیل میں قید ہے۔ سپریم کورٹ میں اُن کے مقدمے کی پیروی کے لیے عدالت ہی کے حکم پر عائشہ تسنیم کو ملزم کا وکیل نامزد کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران تین رکنی بینچ نے استغاثہ کے موقف کو بظاہر من گھڑت قرار دے کر مسترد کیا۔

انسانی حقوق کی ایک سرگرم کارکن فرزانہ باری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ حوصلہ افزا پیش رفت ہے کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ ان مقدمات کی باریک بینی سے چھان بین کر رہی ہے۔

’’ایک زمانہ تھا کہ ہم یہ دیکھتے تھے کہ عدالت میں جب بھی توہین مذہب کا معاملہ آتا تھا، خاص طور پر ذیلی عدالتوں میں اگر جج قائل بھی ہو کہ توہین مذہب کا الزام درست نہیں ہے تو بھی وہ ہمت نہیں کرتے تھے۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ بہت سے ایسے واقعات سامنے ہیں کہ محض توہین مذہب کے الزام پر کسی کو نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا ہو۔

فرزانہ باری نے کہا کہ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کو بھی ایسے ہی الزام کی بنیاد پر سرعام قتل کر دیا گیا، لیکن بعد میں تحقیقاتی رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ مشال بے گناہ تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ اس نوعیت کے حساس معاملے سے نمٹنے کے لیے ذیلی عدالتوں کے ججوں کے لیے تربیتی پروگرام اور ہدایت جاری کی جائیں۔

’’اس میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے اور میرا خیال یہ بھی ہے کہ اعلی عدالتوں کا کام ہے کہ ذیلی عدالتوں کے ججوں کے لیے تربیت ہو اور اُن کو بتایا جائے کہ کس طرح سے ایسے مقدمات کی تحقیقات اُنھیں کرنی چاہئیں۔ اس طرح پولیس کی بھی تربیت کی ضرورت ہے۔‘‘

پاکستان میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر بغیر تحقیقات کے توہین مذہب کے الزام میں کسی کے خلاف پولیس مقدمہ درج کرتی ہے تو لوگ یہ سمجھے لیتے ہیں کہ ملزم اس میں ملوث ہے۔

انسانی حقوق اور سماجی تنظیموں کی طرف سے توہین مذہب کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اس پر نظر ثانی کے مطالبات کیے جاتے رہے ہیں لیکن تاحال اس ضمن میں کوئی پیش رفت ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

پاکستان میں توہین مذہب ایک حساس معاملہ ہے جس کی قانون کے مطابق سزا موت ہے۔ لیکن عام طور پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اس الزام کا سامنا کرنے والوں کو لوگ عدالتوں تک پہنچنے سے پہلے ہی موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG