رسائی کے لنکس

logo-print

پشاور: کاروبار کھلنے کے پہلے روز دھماکہ، دو اہلکاروں سمیت پانچ افراد زخمی


پولیس حکام نے بتایا کہ یہ دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم کا دھماکہ تھا۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس کے سبب کیے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی کے پہلے ہی روز مرکزی شہر پشاور کے انتہائی گنجان آباد تجارتی علاقے اشرف روڈ پر بم دھماکہ ہوا ہے۔

بم دھماکے کے نتیجے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تجارتی علاقے میں ہونے والا دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی گونج دور دور تک سنائی دی۔ دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

تین زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسپتال سے فارغ کر دیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق زخمی ہونے والے دیگر دو افراد کی حالت تسلی بخش ہے۔

پولیس حکام نے بتایا کہ زخمیوں میں دو ٹریفک پولیس اہلکار، دو راہ گیر اور ایک دکان دار شامل ہے۔

پولیس حکام کے مطابق اشرف روڈ پر ہونے والا دھماکہ دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم سے کیا گیا ہے۔ دھماکے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہے۔

پولیس نے دھماکے کے بعد علاقے کو آمد و رفت کے لیے بند کر دیا تھا۔ تاہم ضلعی حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن میں نرمی کیے جانے کے باعث اس علاقے میں کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں شروع ہوئی ہیں۔ جس کی وجہ سے علاقے کو کھول دیا گیا ہے۔

دھماکے کی ذمہ داری اب تک کسی فرد یا گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔

پشاور میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے پہلے روز ہونے والے بم دھماکے نے لوگوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

پشاور میں لاک ڈاؤن کے خاتمے پر شہر بھر کے بازار اور تجارتی مراکز کھل گئے ہیں جب کہ سڑکوں پر معمول سے زیادہ رش دکھائی دے رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG