پشاور کی مسجد میں دھماکا: آٹھ افراد ہلاک، 130 سے زیادہ زخمی
پولیس حکام نے ابتدائی بیان میں کہا ہے کہ دھماکا اُس وقت ہوا جب لوگ نمازِ فجر کے بعد درس کے لیے جمع تھے۔
پشاور —
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی ایک مسجد میں دھماکے کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور 130 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔
پشاور کے رنگ روڈ پر واقع دیر کالونی میں ایک مسجد کے احاطے میں اس وقت دھماکا ہوا جب وہاں موجود افراد درس و تدریس کے عمل میں مشغول تھے۔
دھماکے کے بعد مسجد کو شدید نقصان پہنچا جب کہ زخمیوں اور لاشوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
وزیرِ صحت تیمور سلیم جھگڑا نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے میں سات اموات ہوئی ہیں جب کہ 72 زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام نے ابتدائی بیان میں کہا ہے کہ دھماکا دیر کالونی کی مسجد میں اُس وقت ہوا جب لوگ نمازِ فجر کے بعد درس کے لیے جمع تھے۔
اب تک دھماکے کی نوعیت کے بارے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا البتہ عینی شاہدین کے مطابق یہ ایک دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم دھماکا تھا۔
پشاور کی مسجد میں دھماکا
1/11دھماکے سے مسجد کو شدید نقصان پہنچا حتیٰ کہ مسجد کی چھت کا پلاسٹر بھی کئی جگہ سے اکھڑ گیا اور فرش پر گہرا گڑھا پڑگیا۔
مزیدShow less
2/11دھماکے کے بعد پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے شواہد اکھٹا کیے۔
مزیدShow less
3/11مختلف فلاحی تنظیموں کے رضا کاروں نے زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا اور دھماکے بعد ادھر ادھر پھیل جانے والا سامان اکھٹا کیا۔
مزیدShow less
4/11امدادی کاموں میں مقامی رہائیشوں اور مدرسے کے طلبا نے بھی حصہ لیا۔
مزیدShow less
5/11فوری طور پر دھماکے کی نوعیت سے متعلق سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول کا تھا۔
مزیدShow less
6/11عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ درس کے دوران ایک شخص مبینہ طور پر مسجد کے احاطے میں ایک بیگ رکھ کر چلا گیا تھا جس کے بعد زور دار دھماکا ہوا۔
مزیدShow less
7/11مقامی میڈیا میں عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ دھماکے کے وقت مدرسے میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
مزیدShow less
8/11پشاور کے جس مدرسے میں دھماکہ ہوا ہے اس کا نام جامعہ زبیریہ بتایا جاتا ہے۔
مزیدShow less
9/11سینئرسپرنٹنڈنٹ پولیس آپریشن منصور امان نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ یہ امپرووائزڈ ایکسپلوزو ڈیوائس یعنی آئی ای ڈی دھماکا تھا جس میں 5 سے 6 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔
مزیدShow less
10/11دھماکے کے فوری بعد پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں نے مسجد اور مدرسے کو گھیرے میں لے لیا جب کہ سوائے امدادی کارکنوں کے کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔
مزیدShow less
11/11گزشتہ ماہ سے اب تک خیبر پختونخواہ میں ہونے والا یہ تیسرا دھماکہ ہے۔ 29 ستمبر کو 24 گھنٹے کے دوران 2 دھماکے ہوئے تھے جس میں مجموعی طور پر 9 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے۔
مزیدShow less
Previous slide
Next slide
عینی شاہدین کے مطابق درس کے دوران ایک شخص نے مبینہ طور پر آکر ایک بیگ مسجد کے احاطے میں رکھ کر فرار ہو گیا تھا جس کے بعد زور دار دھماکا ہوا۔
دھماکے کے بعد پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکار اور مختلف فلاحی تنظیموں کے رضاکار موقع پر پہنچے جس کے بعد زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا گیا۔