رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی فوج کے سربراہ نے 12 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی


پاکستان میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے دہشت گردی کے مختلف واقعات میں ملوث ملزمان پر جرائم ثابت ہو جانے پر12 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے 12 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی جب کہ 6 دہشت گردوں کو قید کی سزائیں اورایک ملزم کو عدم ثبوت کی بناء پر بری کرنے کا حکم دیا گیا۔

ترجمان کے مطابق یہ دہشت گرد شہریوں، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث تھے۔ سزائے موت پانے والے دہشت گرد 8 اہل کاروں اور 26 عام شہریوں کے قتل میں ملوث تھے جب کہ دہشت گردوں نے 133 افراد کو مختلف حملوں میں زخمی بھی کیا ۔

سزا پانے والوں میں وہ دہشت گرد بھی شامل ہیں جنہوں نے مرکزی امام بارگاہ پاراچنار پر بھی حملہ کیا تھا،جس کے نتیجہ میں22 معصوم شہری ہلاک اور 130 زخمی ہو گئے تھے،،ان دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ و دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا تھا ۔

جن دہشت گردوں کو سزائے موت سنائی گئی ہے ان میں عاشق خان، رشید، معراج، محمدرسول ، جنت کریم ،ابوبکر ،حیدرخان ، انور خان ، غلام الدین، حبیب اورعبدالغفور شامل ہیں جب کہ شہری احسان اللہ کو بے قصور ہونے پر بری کردیا گیا۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ ان مقدمات کی کارروائی تمام تر قانونی تقاضوں کے مطابق شفاف انداز میں کی گئی اور مجرموں کو اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا موقع دیا گیا۔ ان مجرمان نے اپنے جرائم کا اعتراف مجسٹریٹ کے سامنے بھی کیا۔

پشاور شہر میں آرمی پبلک اسکول پر طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 134 بچوں سمیت 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اسے ملکی تاریخ کا بدترین ہلاکت خیز واقعہ قرار دیا جاتا ہے۔

اس حملے کے بعد نہ صرف حکومت نے سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد پابندی اٹھاتے ہوئے مجرموں کو پھانسی دینے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا بلکہ آئین میں ترمیم کر کے دہشت گردی کے مقدمات چلانے کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی تھیں۔

وکلا کی بعض تنظیموں نے فوجی عدالتوں کے قیام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا لیکن عدالت عظمیٰ نے ان درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ان فوجی عدالتوں کو برقرار رکھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG