رسائی کے لنکس

logo-print

ارب پتی بلوم برگ امریکی صدارتی دوڑ میں شامل ہو گئے


نیویارک کے سابق میئر اور ارب پتی کاروباری شخصیت مائیکل بلوم برگ صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے۔

نیویارک شہر کے سابق میئر اور دنیا کے امیرترین افراد کی فہرست میں شامل امریکہ کی اہم شخصیت مائیکل بلوم برگ نے اتوار کے روز کہا کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پلیٹ فارم سے صدرارتی انتخابات کے میدان میں اتر رہے ہیں۔

77 سالہ امریکی شخصیت نے انتخاباتی مہم سے متعلق بنائی جانے والی ویب سائٹ میں اپنے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ میں صدر ٹرمپ کو شکست دینے اور امریکہ کی تعمیر نو کے لیے انتخابی میدان میں اتر رہا ہوں۔ اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم صدر ٹرمپ کے غیر محتاط اور غیر منطقی اقدامات کو مزید چار سال برداشت نہیں کر سکتے۔

بلوم برگ کے اس اعلان کے بعد 2020 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی سے صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں شامل امیدواروں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔

بلوم برگ نے ایک ایسے وقت میں صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے جب پرائمری ووٹنگ شروع ہونے میں صرف 10 ہفتے باقی رہ گئے ہیں۔

بلوم برگ ڈیموکریٹک پارٹی کی ترجیحات مثلاً آب و ہوا کی تبدیلی اور گن کنٹرول پر بھاری سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ وہ اپنی غیرمعمولی دولت اور شخصیت سے اس انتخابی دوڑ میں اپنے لیے جگہ بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے پہلے ہی کئی امریکی ریاستوں میں ٹیلی وژن پر اپنے انتخابی اشتہارات دکھانے کے لیے 30 ملین ڈالر سے زیادہ کی رقم مختص کر دی ہے۔

فوربز میگزین کے ایک اندازے کے مطابق بلوم برگ امریکہ کے آٹھویں امیر ترین شخص ہیں اور ان کی دولت کا تخمینہ 53 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

بلوم برگ نے امریکہ کے وفاقی الیکشن کمشن میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنے کاغذات جمعرات کو داخل کرا دیے تھے۔ انہوں نے الاباما اور چار دوسری ریاستوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری الیکشن میں شرکت کے لیے بھی اپنے کاغذات جمع کرا دیے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG