رسائی کے لنکس

logo-print

اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے خود کشی کرلی، بالی وڈ سوگوار


فائل فوٹو

بھارتی فلم انڈسٹری کے اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی مبینہ خود کشی پر بالی وڈ کی فضا سوگوار ہے جب کہ بعض حلقوں نے تحقیقات مکمل کیے بغیر ان کی موت کو خود کشی قرار دینے پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔

ممبئی پولیس کا کہنا ہے کہ سوشانت سنگھ اتوار کی صبح باندرہ میں واقع اپنی رہائش گاہ میں مردہ پائے گئے تھے۔ پولیس کے مطابق انہوں نے پنکھے سے رسی باندھ کر خود کشی کی۔

پولیس حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں سوشانت سنگھ کے گھر سے کوئی سوسائڈ نوٹ یا وضاحتی تحریر نہیں ملی۔

نئی دہلی سے وائس آف امریکہ کی نمائندہ رتول جوشی کے مطابق پولیس کی جانب سے سوشانت کی موت کو فوری طور پر خود کشی قرار دینے پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور پوچھا جا رہا ہے کہ پولیس نے تحقیقات مکمل کیے بغیر کس طرح اس واقعے کو خود کشی قرار دے دیا۔

سوشانت سنگھ کی رہائش گاہ کے باہر تعینات پولیس اہکار
سوشانت سنگھ کی رہائش گاہ کے باہر تعینات پولیس اہکار

رتول جوشی کے مطابق بھارت میں اکثر خود کشی کے واقعات میں کوئی سوسائڈ نوٹ نہیں ملتا کیوں کہ مرنے والے اس اقدام کے حوالے سے آخری وقت تک کسی کو کچھ بتانا پسند نہیں کرتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پولیس ابتدائی تحقیقات کے ساتھ ہی ایسے اقدامات کو خود کشی قرار دے دیتی ہے۔

پولیس کو سوشانت کے گھر سے ڈاکٹر کے تحریر کردہ کچھ نسخے بھی ملے ہیں جن سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ وہ سخت مایوسی یعنی ڈپریشن کا شکار تھے اور زیرِ علاج تھے۔ اطلاعات ہیں کہ انہیں ڈاکٹرز نے تنہا رہنے سے بھی منع کیا تھا۔

گزشتہ ہفتے سوشانت کی سابق مینیجر دشا سالیان نے بھی خود کشی کرلی تھی۔ سوشانت دشا سے بہت قریب تھے جب کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ دشا کو فلموں میں کام دلانے کے لیے بھی کوششیں کرتے رہے تھے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ سوشانت کو دشا کی بے وقت موت سے بھی شدید دھچکا پہنچا ہو۔

سوشانت سنگھ کی لاش ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کی جاری ہے
سوشانت سنگھ کی لاش ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کی جاری ہے

'چھچھورے' سوشانت سنگھ کی آخری فلم تھی جب کہ اس سے قبل انہوں نے کرن جوہر کی فلم 'ڈرائیو' میں بھی کام کیا تھا۔ یہ میگا بجٹ فلم تھی جو 2018 میں ریلیز ہونا تھی مگر کسی سبب اسے 2019 تک تھیٹرز میں ریلیز ہونے کا موقع نہیں ملا۔ لہذا نومبر 2019 میں اسے نیٹ فلکس پر ریلیز کیا گیا مگر میگا بجٹ ہونے کے باوجود فلم اچھا بزنس نہ کرسکی۔

فلمی حلقوں سے جڑے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہی وہ وقت تھا جہاں سے سوشانت کے زوال کی ابتدا ہوئی۔

سوشانت سنگھ فلمساز کرن جوہر کے ہمراہ
سوشانت سنگھ فلمساز کرن جوہر کے ہمراہ

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق سوشانت حال ہی میں جس نئے فلیٹ میں منتقل ہوئے تھے اس کا کرایہ بہت زیادہ تھا اور یہ بھی ان کی پریشانی، مایوسی یا ڈپریشن کی ایک وجہ ہوسکتا ہے۔

سوشانت کا آخری انٹرویو کرنے والے ایک صحافی کا کہنا ہے کہ انٹرویو کے دوران سوشانت نے کائنیٹک انرجی اور متبادل کائنات کے حوالے سے عجیب و غریب باتیں کی تھیں جو سمجھ سے باہر تھیں۔

بھارتی فلم ساز مہیش بھٹ نے بھی اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ سوشانت کی حالت ٹھیک نہیں تھی، وہ الجھے ہوئے دماغ والا شخص تھا جو بیک وقت بہت سے خواب پورا کرنا چاہتا تھا جو ناممکن تھا۔ وہ ذہنی طور پر منتشر تھا۔

سوشانت بھارتی کرکٹر ایم ایس دھونی کے ہمراہ
سوشانت بھارتی کرکٹر ایم ایس دھونی کے ہمراہ

سوشانت کا فلمی سفر مختصر ثابت ہوا۔ وہ 2012 میں فلم نگری میں آئے۔ دو سال بعد یعنی 2014 میں ان کی پہلی فلم 'کائی پوچی' ریلیز ہوئی لیکن اصل شہرت انہیں سابق بھارتی کپتان اور کرکٹر مہندرا سنگھ دھونی پر بننے والی فلم 'ایم ایس دھونی: دی ان فولڈڈ اسٹوری' سے ملی۔

پاکستان میں ان کی شہرت کی وجہ فلم 'پی کے' کا کردار 'سرفراز' بنا تھا جو ایک پاکستانی نوجوان تھا اور ایک بھارتی لڑکی کے عشق میں مبتلا تھا۔

فلم 'پی کے'، 'کائی پوچی' اور 'ایم ایس دھونی: دی ان فولڈڈ اسٹوری' کے علاوہ 'دل بیچارہ'، 'شدھ دیسی رومینس' اور 'کیدار ناتھ' بھی ان کی کامیاب فلموں میں شمار ہوتی ہیں۔

فلموں میں آنے سے پہلے انہوں نے بہت سے ٹی وی سیریلز میں بھی کام کیا تھا جیسے 'کس دیس میں ہے میرا دل' اور 'پوتر رشتہ' وغیرہ۔ ان میں 'پوتر رشتہ' سب سے زیادہ مقبول ہوا۔

سوشانت کا پوسٹ مارٹم ہوچکا ہے تاہم ابھی کچھ کیمیکلز ٹیسٹ ہونا باقی ہیں۔ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ان کے جسم سے کوئی زہریلی چیز نہیں ملی۔ انہوں نے جو آخری مرتبہ خوراک لی تھی اس کے بھی کچھ کیمیکل ٹیسٹ ہونا باقی ہیں۔ اس کے بعد ہی ان کی موت کی اصل وجہ کا تعین ہوسکے گا۔

سوسانت کے اہل خانہ ریاست بہار میں مقیم تھے جو ان کی موت کے بعد ممبئی کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔ ان کی آخری رسومات ییر کو کسی وقت ادا کی جائیں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG