رسائی کے لنکس

logo-print

اونچی ذات والے بالی وڈ فلم 'آرٹیکل 15' کے مخالف کیوں تھے؟


فلم آرٹیکل 15 کے ایک منظر میں ایوشمان کھرانہ اور دیگر فنکار

اسٹاک مارکیٹ کی زبان میں کہا جائے تو بھارتی فلم نگری میں ان دنوں 'مندی کا رجحان' ہے۔ کوئی فلم بھی خاطر خواہ بزنس نہیں کر پا رہی ہے۔ لیکن، ایک فلم ایسی بھی ہےجس کی باکس آفس کارکردگی اس ماحول میں بھی تسلی بخش ہے اور وہ ہے۔۔ 'آرٹیکل ففٹین'۔

فلموں کے کاروبار سے جڑے تجزیہ کار ترون آدرش کے حوالے سے بھارتی میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ آرٹیکل 15 ریلیز کے دوسرے ہفتے تک 50 کروڑ سے زیادہ کا بزنس کر چکی ہے۔

انوبھو سنہا کی ڈائریکٹ کردہ فلم آرٹیکل 15 ریلیز سے قبل مشکلات کا شکار رہی جس کی وجہ فلم کی کہانی ہے۔

یہ کہانی ریاست اتر پردیش کے علاقے لال گنج میں 2014 میں پیش آنے والے حقیقی واقعے پر مبنی ہے جس میں نچلی ذات یا دلت کمیونٹی کی دو بہنوں کو اونچی ذات سے تعلق رکھنے والوں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ اونچی ذات کے لوگوں نے فلم کی ریلیز رکوانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ لیکن، ناکام رہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے فلم کی سینما گھروں میں نمائش رکوانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملک کے تمام سینما گھروں میں فلم کی ریلیز کا حکم دیا تھا۔

فلم کی کہانی کی بات کی جائے تو کھیتوں میں مزدوری کرنے والی دونوں بہنوں کو روزانہ اجرت میں صرف تین روپے اضافہ کرنے کے مطالبے پر اعلیٰ ذات کے لوگوں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر جان سے مار دیا، تاکہ دلت برادری کو ان کی حیثیت یاد دلائی جا سکے۔

گلوکار و اداکار ایو شمان کھرانہ نے فلم آرٹیکل 15 میں ایسے فرض شناس پولیس افسر کا کردار ادا کیا ہے جو ظلم کی شکار بہنوں کو انصاف دلانے کی جدوجہد کرتا اور بے خوفی سے ذات پات کے کلچر کےخلاف آواز بلند کرتا ہے۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 15 کے تحت مذہب، ذات، جائے پیدائش یا دیگر چیزوں کی بنیاد پر تعصب یا امتیازی سلوک پر پابندی اور ممانعت ہے۔

فلم 'آرٹیکل' 15 نہ صرف باکس آفس پر اچھا بزنس کر رہی ہے، بلکہ ناقدین سے بھی داد سمیٹ رہی ہے۔

فلم سے جڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت میں حالیہ انتخابات میں شکست کے بعد کانگریسی رہنما راہول گاندھی نے بھی نئی دہلی کے ایک سینما ہال میں عام لوگوں کے ساتھ آرٹیکل 15 دیکھی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG