رسائی کے لنکس

logo-print

پرکاش مہرہ: ایک فلمی شخصیت کی غیر فلمی مگر درد بھری کہانی


پرکاش مہرہ: ایک فلمی شخصیت کی غیر فلمی مگر درد بھری کہانی

پرکاش مہرہ بالی ووڈ فلموں کے ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز کی صفوں کا ایسا نام ہے جس نے اپنی فلموں میں غیر محسوس طریقے سے اپنی زندگی کا، اپنے دل کا درد پرویا۔ شایدبہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہوگا کہ امیتابھ بچن کی فنی زندگی کو عروج بخشنے والی فلم "زنجیر" کا رول اسی فلم کے ڈائریکٹر پروڈیوسر پرکاش مہرہ نے امیتابھ سے پہلے راج کمار کو آفر کیا تھا مگر راج کمار نے کسی سبب یہ کردار کرنے سے منع کردیا جس کے باعث اس کردار نے امیتابھ بچن کی قسمت ہی بدل ڈالی۔ اس فلم سے انہوں نے کامیابی کا وہ سفر طے کیا جو آج بھی جاری ہے حالانکہ اب نہ راج کمار رہے نہ پرکاش مہرہ!!

ہندی فلموں کے کامیاب ترین ہدایت کار و فلمساز پرکاش مہرہ اور امیتابھ میں اس قدر گہری دوستی تھی کہ پرکاش نے اپنی زندگی کی آخری سانس بھی امیتابھ بچن کے سامنے ہی لی۔

ریاست اتر پردیش کی سوندھی مٹی میں جنم لے کر ممبئی آبسنے والے پرکاش مہرہ نے جو مقام حاصل کیا، اس کی حسرت ان گنت لوگ کیا کرتے ہیں۔ وہ گیت کاربننے کی خواہش لئے ممبئی آئے تھے لیکن ان کی قسمت میں گیت کار بننا نہیں، ڈائریکٹر اور پروڈیوسر بننا لکھا تھا۔

پرکاش اپنی زندگی میں فلمی شاعر انجان سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ غالباً وہ خود بھی انجان جیسی ہی شہرت کے آرزومند تھے۔

پرکاش کی زیادہ تر فلموں میں ہیرو کو لاوارث دکھایا جاتا تھا جس پر دوسرے لوگ تو حیران تھے ہی خود انجان بھی پرکاش مہرہ سے اکثر یہ سوال پوچھا کرتے تھے کہ تمہاری فلموں کا ہیرو لاوارث ہی کیوں ہوتا ہے مگر پرکاش ہمیشہ ہنس کر یہ سوال ٹال جایا کرتے تھے۔

لاوارث ہیرو کے کردار بھی سب سے زیادہ امیتابھ نے ہی نبھائے۔ فلم" شرابی" کا ہیرو لاوارث نہیں تھا مگر باپ ہوتے ہوئے بھی امتیابھ کو یہ کردار لاوارثوں جیسا ہی کرنا پڑا۔ پرکاش مہرہ کی ماں کا بچپن میں ہی انتقال ہوگیا تھا جبکہ والد دماغی توازن کھو بیٹھے تھے جس کی وجہ سے پرکاش کو لاوارثوں جیسی ہی زندگی گزارنا پڑی۔ پرکاش مہرہ کو اس بات کا بہت گہرا دکھ تھا اور ان کی فلموں میں جو لاوارث ہیرو ہواکرتا تھا شاید اس کا درد وہی ہوتا تھا جو پرکاش کا اپنا درد تھا۔

پرکاش مہرہ نے انجان کو ایک مرتبہ اپنا ایک گیت "اگر دل ہمارا شیشے کے بدلے پتھر کا ہوتا" سنایا تھاجسے سن کر انجان نے پرکاش مہرہ کے ابتدائی کیرئیر میں ہی پیش گوئی کردی تھی کہ یہ لڑکا اپنے جگر میں کئی طوفان لئے ہوئے ہے۔ پرکاش نے موقع ملتے ہی یہ گیت اپنی فلم میں بھی ڈال دیا۔ انجان اور پرکاش مہرہ کی دوستی بہت گہری تھی۔ یہ دوستی آخری عمر تک قائم رہی ۔

انجان کے بعد پرکاش مہرہ کی دوسری پسند قادر خان تھے۔ قادر خان سے پرکاش مہرہ کی ایسی جگل بندی تھی کہ ان کی موت پر قادر خان نے کہا تھا کہ وہ یتیم ہوگئے ہیں۔ پرکاش مہرہ ان کے ڈائریکٹر ہی نہیں بلکہ استاد بھی تھے۔

ایسے لوگوں کے ساتھ اور محبت نے ہی پرکاش مہرہ کو اس مقام پر پہنچایا جہاں سب آسانی سے نہیں پہنچ سکتے۔ سال1968ء میں فلم "حسینہ مان جائے گی" کی ڈائریکشن سے اپنے فنی سفر کا آغاز کرنے والے پرکاش مہرہ نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ پرکاش کام کرتے گئے اور لوگ ان کی ستائش کرتے رہے۔ اپنی فلم "زنجیر"سے پرکاش مہرہ نے بالی ووڈ کو اینگری ینگ مین امیتابھ بچن دیا ۔ ان دونوں کی جوڑی اور دوستی آخری لمحے تک لوگوں کے لئے مثال بنی رہی۔

"لاوارث"، "مقدر کا سکندر"، "ہیرا پھیری"، "شرابی"، "جادوگر" اور"نمک حلال"، وغیرہ امیتابھ کے ساتھ پرکاش کی ایسی فلمیں ہیں جنہیں کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ فلم "شرابی" میں تیرہ تاریخ کو امیتابھ سے بڑا منحوس دن کہلوانے والے پرکاش مہرہ کا جنم بھی 13 تاریخ کو ہی ہوا تھا۔

امیتابھ کے ساتھ باکس آفس کی تاریخ بدلنے والے پرکاش مہرہ نے اپنے 33 سالہ فلمی جیون میں تقریباً بیس فلموں میں اپنی مہارت کا لوہا منوایا۔ سال 2001ء میں فلم "مجھے میری بیوی سے بچاوٴ" کے بعد پرکاش مہرہ کے فلمی سفر کو بریک لگے۔ اسی دوران میں ان کی شریک سفر بھی ان کا ساتھ چھوڑ گئیں۔ بیوی کی موت سے پرکاش مہرہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ گئے۔ آخر کار 17 مئی 2009ء کو امیتابھ کے ساتھ اپنی ایک اور بڑی فلم "گالی" کی میکنگ کی حسرت لئے وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

پرکاش، امیتابھ جوڑی صرف فلموں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ ان کے درمیان اٹوٹ جذباتی رشتہ بھی تھا۔ فلموں میں انہوں نے جو کچھ کیا وہ سب جانتے ہیں لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ 17 مئی 2009ء کو صبح چھ بجے جب پرکاش مہرہ نے دم توڑا تو ان کے پاس صرف امیتابھ ہی موجود تھے۔

XS
SM
MD
LG